مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 299 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 299

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 281 کر کے حلقہ بگوش احمدیت ہوئے جو بیعت کے دوسرے روز ہی رہا ہو گئے۔ڈاکٹر نذیر احمد صاحب نے عید الفطر کے موقعہ پر مسلمانان حبشہ کے سامنے حضرت مسیح موعود کی آمد اور حضور کے نشانات پر لیکچر دیا، نیز بتایا کہ اس علاقہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے اپنا نشان ظاہر کیا ہے۔پانچ آدمیوں کو جن میں عرب اور حبشی مسلمان شامل ہیں خوابوں میں دکھایا که مسیح و مہدی ہندوستان کی زمین میں ظاہر ہو گیا ہے۔ان لوگوں کے نام جنہیں خوا ہیں آئی ہیں یہ ہیں: (1) الشیخ عمر حسین سوڈانی حبشی عربی کے اچھے عالم ہیں۔(2) علی حکیم عبدہ نو جوان حبشی مسلمان نہایت مخلص عربی کے عالم اور تاجر ہیں۔(3) السید حسین الحراضی عرب تاجر ہیں۔(4) السعید اسماعیل موٹر ڈرائیور۔(5) سراج عبد اللہ۔خواہیں مختلف اوقات میں مختلف رنگوں میں آئیں۔مثلاً کثرت سے لوگ خوشیاں منارہے ہیں۔باغ اور وسیع زرخیز زمین ہے۔عیسائی اور مسلمان ہر دو کہہ رہے ہیں کہ الحمد للہ ہماری زندگی میں مسیح و مہدی ظاہر ہو گیا۔ایک نے دیکھا کہ بادشاہ سلامت ہیلی سلاسی کا دربار ہے اور وسیع میدان میں کثرت سے لوگ جمع ہیں۔میں دوسفید گھوڑوں کی گاڑی پر سوار ہوں اور کہہ رہا ہوں: ظَهَرَ الْمَهْدِي ، ظَهَرَ الْمَهْدِى، مَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُر حبشہ میں ڈبرا بر ہان کے شہر کے ایک لڑکے رضوان عبد اللہ احمدی کو میں نے واقف زندگی کے طور پر ربوہ تعلیم کے لئے ہوائی جہاز پر بھیجا جو ربوہ میں تعلیمی اور عربی دینی ماحول میں بہت مقبول ہو گئے۔لیکن بدقسمتی سے دو تین سال تعلیم جامعہ احمدیہ میں حاصل کرتے ہوئے دریائے چناب میں لڑکوں کے ساتھ وضو کرتے ہوئے پاؤں پھسل جانے سے غرق آب ہو کر شہید ہوئے۔مقبرہ بہشتی ربوہ میں ان کی قبر موجود ہے۔" ایک رمضان میں ڈبرا بر ہان شہر کی جامع مسجد میں جاکر میں نے تبلیغ شروع کر دی۔سوال و جواب کا سلسلہ شروع ہوا۔ساری مسجد بھر گئی۔وہاں کے عربی ملاں نے لوگوں کو اکسایا اور خاکسار پر حملہ کیا گیا اور یکدم دو گروہ بن گئے۔ایک گروہ میری تائید میں اور دوسرا میرے بالمقابل۔آخر مجھے مسجد میں سے نکلنا پڑا۔قتل قتل کے نعرے لگے۔بازار تک مجھے دھکیلتے ہوئے لے گئے۔عربی میں آوازے کستے رہے کہ آج اس ہندی قادیانی کا خاتمہ اور خون بہا دیا