مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 298
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 280 پڑھ کر ارشاد فرمایا کہ ہاں جلدی ایسے سینیا چلے جائیں۔چنانچہ خاکسار 1944 ء میں دوبارہ ایسے سینیا چلا گیا اور حضرت صاحب کی بات پوری ہوئی کہ خاکسار کو ایکٹنگ سول سرجن کے عہدہ پر کئی سال متعین کیا گیا۔وہاں پہنچنے پر ہیلی سلاسی شاہ حبشہ سے کئی بار ملاقات ہوئی۔اس کے محل میں اس کو کتب دے کر تبلیغ اسلام انگریزی زبان میں کی گئی۔اور پرانا تعلق ہجرت اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان یاد دلایا گیا۔(5) 1944 ء سے 1953 ء تک 9 سال برابر سینکٹروں مباحثات کئے اور دس ہزار کے قریب اشتہار کتب رسائل، کتب مسیح موعود عربی ( مثلا اعجاز اسبح لجة النور، حمامة البشرى تحفہ بغداد، التبلیغ دیباچہ قرآن انگریزی اور قرآن کریم کی تفسیر انگریزی بڑے سائز کی تقسیم کی گئی۔اکثر مفت دی گئیں۔سکولوں اور کالجوں میں جا کر تبلیغ کی گئی۔اور سکوں کے لڑکوں نے میرے ہاں برابر ہسپتال میں آنا شروع کیا۔چالیس آدمیوں نے جو مختلف گاؤں کے رہنے والے تھے ایک دن بیعت کی اور سلسلہ احمدیہ میں شامل ہوئے۔آپ کے پیچھے نماز جائز نہیں ،، بیعت کرنے والوں میں ہر شہر کے تین دوست بھی تھے جو جنوری 1947 ء میں داخل سلسلہ ہوئے۔ڈاکٹر نذیر احمد صاحب نے ان اصحاب کی بیعت کی مرکز میں اطلاع دیتے ہوئے یہ رپورٹ بھی بھجوائی کہ چند روز کا واقعہ ہے کہ ہمارے مذکورہ بالا تین نو مبایعین سے غیر احمدی لوگوں کی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے چلے گئے۔میں نے انہیں پیغام بھیجا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز جائز نہیں۔وہ سنتے ہی میرے پاس چلے آئے۔اس سے ہمارے مخالفین میں اشتعال پیدا ہو گیا۔اور مجھ پر محکمہ قضا میں یہ مقدمہ دائر کیا گیا کہ میں نے ان کے دو ہرری مسلمان چرا لئے ہیں اور یہ کہ ان کی نماز کی ہتک کی ہے۔آخر مجھے بلایا گیا اور لوگوں کے سامنے تحقیقات شروع ہوئی۔جب ہمارے خلاف مبالغہ آمیز اور جھوٹی شہادتیں ہوئیں تو حاضرین میں سے ہی دو عرب بول اٹھے اور قاضی اور حاضرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگ عیسی کو آسمان پر زندہ مانتے ہو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک ہے۔واقعی آپ لوگوں کے پیچھے نماز جائز نہیں۔اوائل 1952ء کا واقعہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کے ذریعہ سے قید خانہ میں دس آدمی بیعت