مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 297 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 297

279 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول (3) ڈلہوزی میں 42-1941 ء سے 1943 ء تک خاکسار پریکٹس کرتا رہا۔جہاں حضور نے ایک روز سیر پر جاتے ہوئے فرمایا: ایسے سینیا کے بادشاہ کو لکھو کہ میں نے دوران جنگ ایسے سینیا میں کام کیا ہے اس لئے تم مجھے کوئی عہدہ دو تا کہ میں دوبارہ مریضوں کو ایسے سینیا کے ہسپتالوں میں مقرر ہونے پر خدمت کر سکوں۔سو خاکسار حضور سے بشارات لے کر دوبارہ عدن اور حبشہ چلا گیا۔(4) عدن میں 44-1943 ء میں سرکاری ملازمت سول ہسپتال میں کرتا رہا۔وہاں بھی مساجد میں جب عرب علماء کا درس ہوتا تھا خاکسار وہاں جا کر بیٹھ جاتا اور سوال وجواب کا سلسلہ جاری کردیتا۔کئی موقعہ پر کافر ملعون، قادیانی، کذاب کے خطاب سے یاد کیا جاتا۔اور کئی دفعہ وہاں کی مساجد سے نکالا جاتا۔ایک دن کثرت سے عربوں اور صومالیوں نے مسجد کو گھیرے میں لے لیا تا کہ خاکسار کو کالعدم کر دیا جائے۔اسی اثناء میں سی آئی ڈی کا آدمی میرے پاس آکر کھڑا ہو گیا اور انگریزی میں کہنے لگا کہ ہم کو حکم ہوا ہے کہ آپ کو اپنے گھر سلامتی کے ساتھ پہرے کے اندر پہنچا دیں کیونکہ پبلک مسجد کے اندر اور باہر ڈنڈے اور چاقو لے کر کھڑی ہے، ان کی نیت آج آپ کے متعلق خطر ناک ہے۔۔۔سو وہ مجھے پہرے کے اندر میرے گھر لے آئے۔نو آبادیات محمیات عدن میں دورہ کرنے کے لئے مجھے بھیجا گیا جہاں بیماریاں اور موتیں بکثرت ہو رہی تھیں۔وہاں جا کر گاؤں گاؤں میں ظہور مسیح موعود پر عربی زبان میں تقریر میں کرتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کی خبر بکثرت مشہور ہو گئی۔حسب معمول تصنیفات حضرت مسیح موعود بکثرت تقسیم کرتا رہا جس پر مخالفت کا بازار گرم ہو گیا۔جس پر علماء عدن نے ایک میمورنڈم لکھ کر گورنر عدن کو بھیجا کہ ڈاکٹر نذیر احمد کو میڈیکل سروس سے نکال دیا جائے ، نوجوانوں پر قادیانیت کا اثر ہو رہا ہے۔سلطان شبوطی میرا ڈسپنسر تھا وہ احمدیت کی طرف مائل ہو گیا۔بعد میں مولوی غلام احمد مبشر کے آنے پر سلطان شبوطی اور عبد اللہ محمد شبوطی دونوں احمدی ہو گئے۔فالحمد للہ علی ذلک۔۔۔عدن میں مجھے ملازمت سے علیحدہ کر دیا گیا تو خواب دیکھا کہ میں حضرت صاحب کے ارشاد پر ایسے سینیا ( جو قریب ہی ایک روز کے راستہ پر تھا ) جارہا ہوں۔حضور نے میری خواب