مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 296 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 296

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 278 حبشہ پر قبضہ کرنے پر مزید چھ ماہ خاکسار وہاں مقیم رہ کر عدیس ابابا کی مساجد میں تبلیغ کرتا رہا۔مساجد میں جمعہ کے روز خاکسار لیکچر کرتا اور پیغام احمدیت واسلام عربی زبان میں پہنچا تا۔بسا اوقات خاکسار کو مساجد ہی سے بزور نکال باہر کیا جاتا رہا۔ایک فاضل رکن جامعہ الأزهر شیخ محمد بدیوی مصری جو حکومت کی طرف سے عدلیس ابابا جامعہ میں مقرر تھا چند روز کے بحث مباحثہ کے بعد اور میرے کہنے پر استخارہ کرنے کے بعد حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ کی بیعت تحریری سے مشرف ہوا۔اس نے خواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم و مسیح موعود علیہ السلام کو دو کرسیوں پر بیٹھے دیکھا اور رسول کریم کو اپنی طرف مخاطب ہو کر سنا کہ مسیح موعود کو قبول کرلو۔اس دوران میں السید عبد الحمید ابراہیم مصری ( جو جامعہ الازہر کے فارغ التحصیل ہیں) کے ساتھ مقابلہ ہوتا تو شیخ محمد بدیوی صاحب مجھے بلا لیا کرتے تھے۔خطبہ الہامیہ میری طرف سے دئے جانے پر انہوں نے بھی دعویٰ مسیح موعود کو قبول کر لیا۔1936ء کے بعد 1937 ء میں مصر جا کر بیعت کا خط مولوی محمد سلیم صاحب کو لکھ دیا اور داخل جماعت احمد یہ ہو گئے۔نیز السید عبدالحمید بعد میں قادیان اور ربوہ آ کر حضرت صاحب کی ملاقات سے مشرف ہوئے۔مکرم مولوی محمد سلیم صاحب اس وقت مولانا ابو العطاء صاحب کے بعد بلاد عربیہ میں بطور مبلغ کام کر رہے تھے۔) (2) ستمبر 1936ء میں خاکسار ا ہی سینیا سے چلا گیا اور فلسطین اور مصر و شام کے ممالک میں تبلیغ اور سیاحت اور پریکٹس کے لئے چلا گیا۔چند ماہ رہ کر پھر 1937ء میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کینیا جانے کیلئے ارشاد فرمایا کہ وہاں جا کر میڈیکل سروس میں داخل ہو جاؤں۔سو 1939 تک خاکسار وہاں رہا۔1940ء میں خاکسار کو حاجیوں کے جہاز ایس ایس رحمانی میں میڈیکل آفیسر مقرر کیا گیا۔بمبئی ، جدہ، کراچی وغیرہ کئی دفعہ آنا جانا پڑا۔حج کرنے کا بھی موقعہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے عنایت کیا۔عربی میں مہارت کافی ہوگئی۔مکہ معظمہ میں اور عرفات منی، مزدلفہ، مکہ معظمہ ، جدہ ، غرضیکہ ہر جگہ عربوں اور دیگر علماء کو تبلیغ کرنے کا موقعہ بکثرت ملتا رہا اور علاج معالجہ کا موقعہ ملتا رہا۔خاکسار کا طریق اکثر یہی رہا کہ قرآن کریم کی آیات ہر مسئلہ پر اور کتب عربی حضرت مسیح موعود کی تشریحات اکثر بیان کرنے پر مداومت اختیار کرتا تھا جس کا بہت جلد اثر دیکھا جاتا رہا۔