مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 295
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 277 بہترین ثبوت دیا۔ذیل میں محترم ڈاکٹر صاحب کی زبانی وہاں کے حالات و تبلیغی واقعات کی تفاصیل درج کی جاتی ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں: حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو تحریک جدید کے ماتحت وقف کرنے پر علی گڑھ خط لکھا کہ ابی سینیا ( حبشہ ) میں جا کر طبی خدمات سرانجام دینے اور تبلیغ کرنے کے لئے روانہ ہو جائیں۔اگست 1935ء میں خاکسار قادیان پہنچ کر حضور سے فیضیاب ملاقات ہوا۔حضرت خلیفہ اسیح کی بیش قیمت نصیحت حضور کے ضروری ارشاد گرامی یہ تھے۔ریڈ کر اس ہسپتالوں میں جو جنگ کے میدان میں ابی سینیا میں کام کر رہے ہیں اپنے آپ کو پیش کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں صحابہ کرام کی ہجرت بھی ایسے سینیا کے ملک میں ہوئی تھی۔اہل حبشہ کے آباؤ اجداد کے اس نیک سلوک کی وجہ سے عالم اسلامی ان کا ممنون ہے اس کے عوض ہمیں اس مصیبت کے وقت ان کے بیمار اور زخمیوں کی مدد کرنی چاہئے۔مخدوش حالات اور خدمت کی توفیق (1)۔خاکسار عدلیں ابابا اپنے خرچ پر پہنچا۔اٹلی کے فوجیوں کے ہوائی حملوں سے بے اندازہ نقصان جانی و مالی ہوا۔گولہ باری کے ذریعہ بیدردی سے جانیں تلف کی گئیں۔خاکسار عین میدان شمالی محاذ پر متعین تھا۔روزانہ کئی سو زخمیوں کی مرہم پٹی کرنا پڑتی تھی۔دیکھتے دیکھتے جانیں تلف ہوتی تھیں۔قیامت کا منظر سامنے تھا۔قرآن کریم کی پیشگوئیاں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیاں فوج میں بیان کر کے واضح کیا جاتا رہا کہ مسیح موعود کا ظہور ہو چکا اور سچائی ثابت ہو چکی ہے۔لوگوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔۔۔۔ہندوستان کی طرف سے خاکسار ہی ایک ڈاکٹر تھا جو ملک حبشہ میں جنگ کے دوران کام کے لئے بھیجا گیا۔با شمر تبلیغی مهمات اپنے سینیا کا بادشاہ ہیلی سلاسی یکم مئی 1936 ء کو فرار ہو کر انگلستان چلا گیا۔اٹلی کے ملک