مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 294
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 276 حبشہ میں ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کی تبلیغی خدمات حبشہ کا ملک جسے انگریزی میں ایتھو پیایا ابی سینیا کہتے ہیں براعظم افریقہ کے شمال مشرق میں واقع ہے۔جس کی تقریبا نصف آبادی مسلم ہے اور قدیم سے عربوں کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے عربی زبان وہاں پر بولی اور سمجھی جاتی تھی۔آج کل بھی سوڈان کی سرحدوں کے قریبی علاقے میں عربی زبان ہی بولی جاتی ہے اور پورے ملک میں کئی ایک عربی اخبارات ورسائل شائع ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں حبشہ میں مضبوط عیسائی حکومت قائم تھی۔جب کفار مکہ کی طرف سے مظالم کی انتہا ہوگئی تو آپ نے مسلمانوں کو ارشاد فرمایا کہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں جس کے بادشاہ کے متعلق آپ نے فرمایا کہ حبشہ کا بادشاہ عادل ومنصف ہے اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا۔حبشہ کی حکومت نے مسلمان مہاجرین کو پورا پورا امن دیا اور ان کی تبلیغ سے نہ صرف نجاشی مسلمان ہو گیا بلکہ عمائد مملکت بھی اسلام لے آئے۔حکومت حبشہ کا یہ ایسا عظیم الشان احسان ہے کہ ملت اسلامیہ اسے قیامت تک فراموش نہیں کر سکتی۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اسی جذ بہ تشکر سے لبریز ہو کر اگست 1935 ء میں ڈاکٹر نذیر احمد صاحب ( ابن حضرت ماسٹر عبد الرحمن صاحب سابق مہر سنگھ ) کو حبشہ جانے اور اہل حبشہ کی خدمت کرنے کا ارشاد فرمایا۔یہ وہ ایام تھے جب اٹلی اور حبشہ کے درمیان جنگ چھڑی ہوئی تھی۔اہل حبشہ بری طرح پسپا ہو رہے تھے اور ان کو جنگی امداد کے علاوہ طبی امداد کی بھی بہت ضرورت تھی۔ڈاکٹر نذیر احمد صاحب اپنے آقا کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اپنے خرچ پر ابی سینیا گئے۔اور اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر انسانی ہمدردی اور خدمت خلق کا