مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 264
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 248 ماہ بعد یہ لوگ دوبارہ آئے اور اس موضوع پر بات ہوئی۔بحث کے اختتام پر مولانا نے ان سے پوچھا کہ اب کب ہماری آپ سے ملاقات ہوگی۔انہوں نے جواباً کہا کہ: قیامت کے دن۔مولانا نے فرمایا کہ وہاں ہماری آپ سے ملاقات نہیں ہو سکے گی۔اگر آپ بھی حضرت امام مہدی علیہ السلام پر ایمان لے آئے تو ملاقات کی توقع کی جاسکتی ہے۔لیکن اگر آپ نے ان کا انکار کر دیا اور ہمیں کافر کہنے والوں کی صف میں شامل ہو گئے تو پھر آپ کی اور ہماری ملاقات نہیں ہو سکے گی۔کیونکہ ایسی صورتحال میں تو وہاں آپ قرآن مجید کے مندرجہ ذیل الفاظ کہہ رہے ہوں گے: وَقَالُوا مَالَنَا لَا نَرَى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِنَ الْأَشْرَار اتَّخَذْنَاهُم سِحْرِيًّا أم زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ۔(سورہ ص 63-64) یعنی اور اس وقت دوزخی کہیں گے کہ ہمیں کیا ہوا کہ آج ہم ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جن کو ہم برا قرار دیا کرتے تھے۔کیا ہم انکو یونہی اپنے دلی خیال کی وجہ سے ) حقیر سمجھتے تھے یا اس وقت ہماری آنکھیں سمج ہو گئی تھیں۔مولانا نے فرمایا کہ آپ حضرت امام مہدی کے دعوئی پر غور کریں اور ان پر ایمان لائیں کیونکہ اسی میں آپ کے لئے خیر ہے۔شکست کی وجہ علم لاہوت سے ناواقفیت مسلمانوں کے ایک عالم شیخ محمد قدسی عیسائی ہو کر شیخ برنا بہ بن گئے اور عیسائیت کی تبلیغ شروع کر دی۔ایک دفعہ جماعت احمد یہ حیفا کے چند افراد نے ان سے ملاقات کر کے انہیں احمدی مبلغ مولانا ابو العطاء صاحب کے ساتھ مناظرہ پر راضی کر لیا۔مناظرہ کی تاریخ مقرر ہوئی اور جب مناظرہ شروع ہونے لگا تو مولانا صاحب نے قبلہ رو ہو کر دعا کی۔احباب جماعت نے مولانا سے پوچھا کہ آپ نے کیا دعا کی؟ تو انہوں نے بتایا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ یا رب اس مناظرہ کا نیک اثر سامعین پر قائم ہو۔اس عیسائی کی لفاظی اور ملمع سازی سے عوام الناس متاثر نہ ہوں بلکہ جو حقیقت اور حق میں بیان کروں اس سے یہ متاثر ہوں۔الحمد للہ ایسا ہی ہوا۔مولانا نے ٹھوس دلائل سے مسیحیت کا بطلان اور اسلام کی حقانیت ثابت کر دی۔جب عیسائی صاحبان نے اپنے پادری کی شکست کو محسوس کیا تو انہوں نے مولانا کو کہا کہ شیخ برنا به عیسائیت میں نیا نیا داخل ہوا ہے۔وہ علم لاہوت نہیں جانتا۔ہم ایک دوسرے عیسائی