مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 263
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول زبر دست قوت بیان 247 عبد المالک محمد عودہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ مکرم منیر الحصنی صاحب فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے مولانا ابو العطاء صاحب کو زبر دست قوت بیان عطا فرمائی ہے اور مزاحاً فرمایا کرتے تھے کہ اگر ایک کمرہ خالی ہو اور مولانا ابو العطاء صاحب یہ ثابت کرنا چاہیں کہ یہ کمرہ سونے چاندی سے بھرا ہوا ہے تو شاید بڑی ہی آسانی اور ٹھوس دلائل سے ثابت کر دیں گے کہ ہاں یہ کمرہ سونے چاندی سے بھرا ہوا ہے۔کیا عجمی مسلمانوں کی نماز اللہ کے نزدیک مقبول نہیں؟ مکرم عبد المالک محمد عودہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ تین علماء مولانا ابو العطاء صاحب کے پاس آئے ، ایک کا نام شیخ حسن ، دوسرے کا شیخ توفیق اور تیسرے کا نام یاد نہیں رہا۔انہوں نے مغرب کی نماز مولانا کی اقتداء میں پڑھی۔اس کے بعد مسئلہ ختم نبوت پر بحث ہوتی رہی یہاں تک کہ جب عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا تو ان تینوں علماء نے مولانا ابو العطاء صاحب کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے گریز کیا۔بعد از نماز مولانا صاحب کے دریافت کرنے پر انہوں نے کہا کہ جو شخص سورہ فاتحہ صحیح عربی تلفظ کے ساتھ نہیں پڑھتا ہم ایسے عجمی کے پیچھے نماز ادا نہیں کرتے۔مولانا نے فرمایا کہ عجمی مسلمانوں کی تعداد تو عرب مسلمانوں سے زیادہ ہے اور انکا تلفظ بھی عربی نہیں۔کیا انکی نماز اللہ کے نزدیک مقبول نہیں ؟ اگر آپ کو اپنی زبان دانی پر اتنا ہی فخر ہے تو آئیں اور میرے ساتھ قرآن مجید کی تفسیر لکھنے کا مقابلہ کر لیں۔انہوں نے مولانا صاحب کے اس چیلنج کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ اسکے لئے تو ہم تیار نہیں ہیں۔آپ کی اور ہماری ملاقات نہیں ہو سکے گی مکرم عبد المالک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ (حمادی) خاندان کے چند نوجوان مولا نا ابو العطاء صاحب کے پاس آئے اور ختم نبوت کے موضوع پر بحث ہوئی۔بحث کے آخر پر نوجوان کہنے لگے ہم دوبارہ آئیں گے اور اس موضوع پر پھر بات ہوگی۔چنانچہ تین