مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 245
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول موقف درست ہے یا نہیں؟ اس از ہری عالم نے جواب دیا: 229 میں نے مرزا صاحب کا لٹریچر پڑھا ہے اور بعض احمدیوں سے بھی ملا ہوں اور تبادلہ خیالات کیا ہے۔جس قسم کی نبوت کا مرزا صاحب نے دعوی کیا ہے اگر اس قسم کے ہزار بھی نبی آجا ئیں تو ختم نبوت نہیں ٹوٹتی۔اس پر میں نے کہا کہ دیکھو اب میں احمد یہ جماعت میں داخل ہو جاؤں گا اور قیامت والے دن تم اس کے ذمہ وار ہو گے۔ازہری عالم کہنے لگے کہ میرا یہ جواب صرف یہاں ہی ہے۔لیکن اگر پبلک میں سوال کرو گے تو میں یہی کہوں گا کہ امتی نبی بھی نہیں آ سکتا۔ہاں اگر آپ جماعت احمدیہ میں شامل ہونا چاہیں تو بے شک میری ذمہ داری پر داخل ہو جائیں۔جہاں تک میرا تعلق ہے تو میرے لئے بعض روکیں ہیں جن میں سے سب سے بڑی یہ ہے کہ اگر میں احمدی ہو جاؤں تو مجھے ملا زمت سے نکال دیا جائے گا۔یہ مصری دوست کہتے ہیں کہ جب میں نے ازہری عالم سے یہ بات سنی تو فورا جماعت میں داخل ہونے کا مصمم ارداہ کر لیا، اور خطبہ الہامیہ پڑھنا شروع کر دیا اور ختم کر کے سویا۔رات کو میں نے خواب میں دیکھا کہ حضرت سیدنا احمد اسیح علیہ السلام ایک کثیر جماعت کے ساتھ کہیں تشریف لے جارہے ہیں۔میں نے دریافت کیا کہ حضور یہ کون لوگ ہیں اور انہیں آپ کہاں لے کے جار ہے ہیں۔آپ نے فرمایا: یہ اولیاء اللہ ہیں جو امت محمدیہ میں مجھ سے پہلے ہوئے ہیں اور میں ان کو دربار رسول میں زیارت کے لئے لے کے جا رہا ہوں۔میں خاتم الاولیاء ہوں میرے بعد کوئی ولی نہیں مگر میری جماعت میں سے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں مگر وہی جو امتی نبی ہو جیسے میں ہوں۔جب میں بیدار ہوا تو میرے لئے مسئلہ ختم نبوت حل ہو چکا تھا اور میں بہت خوش تھا۔حاجی عبد الکریم صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ان کا یہ واقعہ اور بیعت فارم پر کروا کے قادیان روانہ کر دیا۔(ماخوذ از برہان صداقت از مولانا عبد الرحمن مبشر صاحب صفحہ 9 تا 11 )