مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 222
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 210 افتتاح مسجد کی اہمیت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مسجد فضل کے افتتاح اور شاہزادہ فیصل کے اس میں شرکت نہ کرنے پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: افتتاح مسجد کا واقعہ اپنے اندر اس قدر اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ اب دنیا کی کوئی تاریخ اس کو نہیں مٹا سکتی۔اور معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ مقدر ہو چکا ہے کہ یہ مسجد ہمیشہ قائم رہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کی تعمیر کے لئے اور اس کی شہرت کے لئے ایسے سامان کر دیئے کہ جن سے اس کی اہمیت اس قدر بڑھ رہی ہے کہ حیرانی ہی ہوتی ہے۔پہلے اللہ تعالیٰ نے اسے میرے ولایت جانے تک روکے رکھا۔میرے وہاں جانے سے سلسلہ کی یکدم حیرت انگیز شہرت ہوگئی۔کیونکہ ولایت کے لئے یہ عجیب بات تھی کہ ایک نبی کا خلیفہ وہاں پہنچتا ہے۔اس لئے ہر اخبار میں ہمارا تذکرہ متواتر ہوتا رہا اور کثرت کے ساتھ فوٹو چھپتے رہے حتی کہ ایک جرمن اخبار کے پورے صفحہ میں میرا فوٹو شائع ہوا۔اسی طرح امریکہ میں بھی ہمارے متعلق خبریں شائع ہوئیں۔چونکہ میرے وہاں جانے پر میرے ہاتھ سے مسجد کی بنیاد رکھی گئی تھی اس لئے پہلے بنیاد کے موقع پر بڑے بڑے وزیر ولا رڈ آئے۔ان وجوہات کے باعث اب لوگوں کو یہ انتظار لگی ہوئی تھی کہ کب یہ مسجد مکمل ہو تو ہم دیکھیں۔اور جب مکمل ہونے لگی تو شہرت کے اور کئی ایک قدرتی سامان پیدا ہونے شروع ہو گئے۔مثلا ایک یہ بات شہرت کا باعث بن گئی کہ یہ تحریک کی کئی کہ ابن سعود کے لڑکے کو بلایا جائے۔چنانچہ ابن سعود نے بھی اس تحریک کو پسند کیا اور اپنے لڑکے امیر فیصل کو جو مکہ کا گورنر ہے کو بھیجنے کا وعدہ کیا۔اب امیر فیصل کے خاص افتتاح مسجد کے لئے آنے کی خبر سے اور بھی شہرت ہونے لگی۔جب امیر فیصل ولایت پہنچا تو بیان کیا جاتا ہے کہ ہندوستان سے مولویوں نے تاریں دیں کہ یہ کیا کام کرنے لگے ہو؟ ہماری کیوں ناک کاٹنے لگے ہو؟ تمہاری اس حرکت سے ہماری ناکیں کٹ جائیں گی۔اسی طرح مصر سے بھی ہمارے خلاف آوازیں اٹھیں۔یہ تاریں دی گئیں اور اسے روک دیا گیا۔اب اس کے روکنے پر سارے برطانیہ میں اور بھی شور پڑ گیا کہ روکنے کی کیا وجہ ہوئی۔یہ کیا بات ہے کہ امیر فیصل مکہ سے چل کر جس کام کے لئے ولایت پہنچتا ہے اس کام سے اسے روکا جاتا ہے؟ کوئی خاص راز ہو گا ؟۔۔۔۔مضمون پر مضمون نکلنے لگے کہ اس