مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 221 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 221

209 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول تار کے ذریعہ اس درخواست کو منظور کیا اور اپنے ایک فرزند شاہزادہ فیصل کو اس غرض کے لئے ولایت روانہ کر دیا۔جب شاہزادہ موصوف لندن پہنچے تو درد صاحب کے انتظام کے ماتحت ان کا نہایت شاندار استقبال کیا گیا۔اور اخباروں میں دھوم مچ گئی کہ وہ مسجد فضل لندن کے افتتاح کے لئے تشریف لائے ہیں۔مگر اس کے بعد ایسے پُر اسرار حالات پیدا ہونے لگے کہ شاہزادہ فیصل بر ملا انکار کرنے کے بغیر پیچھے ہٹنا شروع ہو گئے اور گو آخر وقت تک انہوں نے انکار نہیں کیا مگر عملاً تشریف بھی نہیں لائے۔ان کے تامل کو دیکھ کر درد صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی سے بذریعہ تارا جازت لے لی کہ اگر شہزداہ فیصل نہ آئیں تو خان بہادر شیخ عبد القادر صاحب مسجد کا افتتاح کردیں۔چنانچہ جب فیصل صاحب نہ پہنچے تو درد صاحب نے مسجد کا افتتاح خان بہادر سر عبد القادر صاحب کے ذریعہ کروا لیا جو ان دنوں لیگ آف نیشنز کے اجلاس میں شرکت کے لئے ہندوستان کے نمائندہ کی حیثیت سے ولایت آئے ہوئے تھے۔مگر شاہزادہ فیصل کی آمد آمد کا ولایت کے اخباروں میں اس قدر کثرت کے ساتھ چرچا ہو چکا تھا کہ لوگوں نے ان کے نہ آنے کو بہت اچنبھا سمجھا اور واقف کار لوگ تاڑ گئے کہ اس عملی انکار کے پیچھے اصل راز کیا مخفی ہے۔وہ راز یہ تھا کہ بعض مسلم اور غیر مسلم حلقوں نے اس بات کو دیکھ کر کہ جماعت احمد یہ زیادہ اہمیت اختیار کر رہی ہے سلطان ابن سعود کو بہکا دیا تھا کہ ان کے صاحبزادہ صاحب مسجد احمدیہ کی افتتاحی رسم سے مجتنب رہیں۔اور ان کے دل میں یہ خیال بھی پیدا کر دیا گیا کی تھا کہ چونکہ مسلمان علماء کا ایک معتد بہ حصہ جماعت احمدیہ کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتا ہے اس لئے مسجد احمدیہ کے افتتاح میں شاہزادہ فیصل کی شرکت سے اسلامی ممالک میں سلطان کے متعلق بُرا اثر پیدا ہوگا۔بہر حال خواہ اصل وجہ کچھ بھی ہو شاہزادہ فیصل کی شرکت سے جو فائدہ جماعت احمدیہ کو حاصل ہو سکتا تھا وہ پھر بھی ہو گیا۔اور وہ یہ کہ ولایت کے اخباروں میں نہایت کثرت کے ساتھ مسجد احمد یہ اور جماعت احمدیہ کی شہرت ہو گئی۔بلکہ ابتدائی اقرار اور بعد کے انکار نے اس شہرت کو اور بھی نمایاں کر دیا۔مگر خود شاہزادہ موصوف کی یہ بدقسمتی ضرور ہے کہ انہوں نے ایک اہم دینی خدمت سے جس کی یاد دنیا میں قیامت تک رہنے والی تھی اپنے آپ کو محروم کر دیا۔(ماخوذ از سلسلہ احمدیہ صفحہ 380-382)