مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 210 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 210

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 198 اخبار الاہرام میں ہم نے اعلان پڑھا کہ باب الحدید کے پاس دارا تبشیر میں لیکچر ہو گی گا۔ہم سننے کے لئے گئے۔اختتام لیکچر پر کسی کو سوالات کی اجازت نہ دی گئی۔مگر انچارج پادری نے ہم سے کہا کہ آپ اگر کوئی سوال دریافت کرنا چاہیں تو دو دن کے بعد انجیل کا درس ہو گا آپ تشریف لائیں اور جو سوال کرنا چاہتے ہیں کر سکتے ہیں۔چنانچہ میں اور برادرم منیر الکھنی اور شیخ محمود احمد صاحب وقت مقررہ پر وہاں پہنچ گئے۔اس سے چند ہی باتیں ہوئی تھیں کہ وہ کہ اٹھا: میں آپ کو جواب نہیں دے سکتا۔آپ کتاب مقدس کا مطالعہ کریں۔ہم نے کہا: آپ ہمیں سمجھا ئیں۔کتاب مقدس پر ہی تو اعتراض ہے۔وہ اتنا گھبرا گیا کہ اس نے صاف طور پر کہہ دیا: افرضوا أننى حمار ، آپ فرض کر لیں کہ میں گدھا ہوں اور مجھے کچھ نہیں آتا۔قوت دلائل و سحر کلام (ماخوذ از الفضل یکم اپریل 1930 ء ) مصر میں حضرت مولوی صاحب کو اپنے چند احمدی ساتھیوں کے ساتھ بذریعہ ٹرین کسی دوسرے مقام پر جانا تھا۔گاڑی چلنے میں ابھی آدھ گھنٹے کی دیر تھی کہ ایک از ہری مولوی سٹیشن پر آئے۔مکرم محمود آفندی خورشید نے انہیں شمس صاحب سے انٹروڈیوس کرایا اور ساتھ ہی اختلافی مسائل کا بھی ذکر کر دیا۔اس پر سلسلہ گفتگو چل پڑا اور مولوی صاحب تعلیم یافتہ مسافروں کے انبوہ میں گھر گئے۔آپ نے نہایت فصیح و بلیغ عربی میں تقریر کی۔ازہر کے شیخ کو آپ کے دلائل کے سامنے سر جھکانا پڑا۔یہ سلسلہ اتنا لمبا ہو کہ سامعین نے ایک مولوی صاحب کو ایک ٹرین مس کرنے پر مجبور کر دیا۔بہت سے لوگوں نے مولوی صاحب کا پتہ نور کیا۔اور دوبارہ ملاقات کا وعدہ کیا۔ہم آپ سے یہیں جہاد کریں گے قاہرہ سے واپسی پر عیسائیوں کے ایک تبشیری ہال میں پادری مریان پطرس کا ایک لیکچر تھا اس دن ہم سب وقت مقررہ پر پہنچ گئے۔پادری صاحب ہال میں ٹہل رہے تھے۔مولوی صاحب کو داخل ہوتے دیکھ کر کہنے لگے: آپ ابھی تک یہیں ہیں؟ آپ کیوں ہمیں تنگ کر رہے ہیں اور ہمیں کام نہیں کرنے دیتے۔بہتر ہے کہ آپ ہندوستان چلے جائیں اور اپنے ملک