مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 158
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول مشق کی فتح کا مصمم ارادہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: 150 ”جب میں دمشق گیا تو عبد القادر مغربی جو اس علاقہ کی اسلامی تحریکات کی مجلس کے تھے مجھ سے ملنے کے لئے آئے اور باتوں باتوں میں کہنے لگے ہندوستانی لوگ جاہل ہیں وہ اسلام اور قرآن سے ناواقف ہیں۔اور اس ناواقفیت سے فائدہ اٹھا کر آپ نے ان لوگوں میں اپنے سلسلہ کو پھیلا لیا۔عرب لوگ قرآن کی بولی جانتے ہیں۔وہ خوب سمجھتے ہیں کہ اسلام اور قرآن کیا کہتا ہے۔اس لئے یہاں ان عقائد کا ہرگز نام نہ لیں اور یاد رکھیں کہ ایک عرب بھی آپ کے سلسلہ کو قبول نہیں کرسکتا۔میں نے ان سے کہا آپ کہتے ہیں کہ ہندوستانی لوگ کیونکہ جاہل ہیں اس لئے ان میں ہمارا سلسلہ پھیل گیا۔عرب کا کوئی آدمی ہمارے سلسلہ کو قبول نہیں کر سکتا۔میں یہاں سے جاتے ہی اپنا مشن بھیجوں گا اور اسوقت تک اس علاقے کو نہیں چھوڑوں گا جب تک عربوں میں سے کئی لوگوں کو احمدی نہ بنالوں۔چنانچہ میں نے آتے ہی اپنے مبلغین کو اس علاقہ میں بھجوا دیا اور اب بڑے بڑے ڈاکٹر ، بیرسٹر اور تعلیم یافتہ اشخاص ہمارے سلسلہ میں داخل ہو چکے ہیں۔اور ہزاروں روپیہ وہ اسلام اور احمدیت کے لئے خرچ کر رہے ہیں۔پس یہ ہو نہیں سکتا کہ دنیا انکار کرے اور انکار کرتی چلی جائے۔یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جسے خدا نے بھیجا ہے اس پر لوگ ایمان نہ لائیں۔مگر مبارک ہیں وہ جواب ایمان لاتے ہیں۔مبارک ہیں وہ جو خدا کی آواز کو سنتے اور اس پر لبیک کہتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں کیونکہ جو شخص خدا کے مامور کی آواز کو سنتا ہے وہ درحقیقت خدا کی آواز کوسنتا ہے۔اور جو شخص خدا تعالیٰ کے مامور کی آواز کورڈ کرتا ہے وہ در حقیقت خدا تعالی کی آواز کورڈ کرتا ہے“۔(انوار العلوم جلد 17 صفحہ 175) جامع اموی دمشق میں قیام کے دوران حضور انور جامع اموی کی زیارت کو تشریف لے گئے۔بازاروں میں کثرت ہجوم میں سے حضور کا گزرنا تمام لوگوں کی توجہ کو کھینچتا تھا اور اکثر لوگ تعارف چاہتے تھے۔جمعہ کا دن تھا نماز جمعہ کے واسطے دیہاتی لوگ اور ثواب کے