مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 154 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 154

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول بیت المقدس سے دمشق تک 146 5 /اگست 1924ء کی شام حضور انور کا اپنے قافلہ کے ساتھ دمشق میں ورود مسعود ہوا۔اگلی صبح حضور انور نے اہل دمشق کے نام ایک پیغام لکھنا شروع کیا جو حضور کی تحریر کے مطابق فل سکیپ کاغذ کے 16 کالموں پر حضور نے ختم فرمایا۔فارم بیعت بھی ساتھ لگایا اور شیخ صاحب مصری کو ترجمہ کرنے کی غرض سے دیا۔یہ پیغام کمپوز ہو کر چھپنے کے لئے پریس میں ارسال کیا تو معلوم ہوا کہ اس کے طبع کروانے کیلئے پہلے پریس برانچ کے افسروں سے اجازت لینی لازمی ہے۔حضور نے دمشق کے گورنر حقی بیگ کے پاس جا کر معاملہ عرض کرنے کا حکم دیا۔حقی بیگ نے کہا کہ مفتی صاحب اجازت دیں گے تب شائع ہو سکے گا۔مفتی صاحب نے دیکھ کر کہا مضمون مذہبی ہے مگر میں اس کو دو تین دن میں پڑھ سکوں گا اور پڑھنے کے بعد فیصلہ دوں گا۔بہر حال اسے پڑھ کر مفتی نے کہا کہ یہ ہمارے مسلمہ عقائد کے خلاف ہے لہذا اس کی اشاعت کی میں اجازت نہیں دوں گا۔گورنر حقی بیگ (پاشا) نے بھی آخر کہہ دیا کہ میں کیا کر سکتا ہوں جب مفتی جو اس صیغہ کا افسر ہے اس کی اشاعت کی اجازت نہیں دیتا کچھ ہو نہیں سکتا حتی کہ یہ بھی کہہ دیا کہ اس صورت میں اخبارات میں بھی اس مضمون کی اشاعت ناممکن ہے۔یوں یہ پیغام چھپ کر تقسیم نہ ہوسکا۔ہم حق کو لے کر دنیا میں نکلے ہیں 6 اگست 1924ء کو شیخ عبد القادر جیلانی کی اولاد کے ایک بزرگ حضور کی ملاقات کی غرض سے حاضر ہوئے۔ان کے ساتھ دمشق کے افسر خزانہ اور دو ایک اور سرکاری عہدے دار بھی حاضر تھے۔حضور نے ملاقات سنترال ہوٹل کے بالائی منزل کے ڈرائینگ روم کے جنوبی کو حصہ میں سیڑھیوں سے جانب غرب بیٹھ کر کی۔ان لوگوں نے بہت ہی شریفانہ طریق سے سوالات کئے اور جواب پا کر ادب اور احترام سے قبول کرتے رہے۔سلسلہ گفتگو قریب نصف گھنٹہ جاری رہا۔انہوں نے پھر پوچھا اور عرض کیا کہ کہ آپ نے ہمارے ممالک عربیہ میں کیوں مبشر نہیں بھیجے اور کیوں جرائد اور مجلات جاری نہیں کئے۔حضور نے فرمایا کہ میرا ارادہ ہے کہ جلدی ہی یہاں مبشر بھیج دوں اور مبشرین کے آنے پر انشاء اللہ جرائد اور مجلات بھی