مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 127
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 121 حاصل کروں اور کالج کی تعلیم کا خیال چھوڑ دوں اور جب حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ، حضرت حافظ روشن علی صاحب اور شیخ تیمور کو مفتاح العلوم کا سبق پڑھانے کا ارادہ فرمایا تو آپ نے مجھ سے بھی فرمایا کہ میں بھی شریک ہو جاؤں۔مجھے عربی کا بہت معمولی علم تھا بلکہ نہ ہونے کے برابر۔میں حیران ہوا بلکہ میرے ساتھی بھی حیران ہوئے لیکن حکم کی تعمیل میں دو تین سبقوں میں شریک ہوا۔مجھے اپنی کمزوری کا نہایت درجہ احساس ہوا۔حضرت حافظ صاحب سے سبق پڑھنے کیلئے جد و جہد کی۔میرے دوست مرزا برکت علی صاحب بھی میرے ساتھ وہی سبق پڑھتے تھے جو میں پڑھتا تھا۔مسجد مبارک میں ہمیں حافظ صاحب پڑھا رہے تھے ایک دن مجھ سے کہنے لگے۔تہانوں نہیں عربی اونی میں نے ہنستے ہوئے کہا میرا بھی یہی خیال ہے۔کون زیر زبر پیش کے ساتھ ساتھ ہر دفعہ آنکھیں اُونچی نیچی کرے۔اگر یہ زیر زبر پیش نہ ہو تو پڑھنا ناممکن ہے۔اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ پڑھائی جاری رکھوں یا نہ رکھوں۔ایک جمعہ کے دن مسجد مبارک کے اُس حجرہ میں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سرخی والا نشان دکھایا گیا تھا بیٹھا پڑھ رہا تھا۔اسی کمرہ میں میری رہائش تھی حضرت خلیفہ اسیح الثانی میرے پاس تشریف لائے اور ادھر اُدھر کی باتیں شروع کر دیں۔دورانِ گفتگو میں مجھ سے فرمایا۔کیا خیال ہے اگر آپ کو مصر بھیج دیا جائے تو آ وہاں عربی پڑھیں۔مدرسہ احمدیہ کے لئے بھی ہمیں ضرورت ہے۔میں یہ بات مذاق سمجھا لیکن بار بار فرمایا۔مذاق نہیں یہ اقرار کریں تو ابھی انتظام کیا جا سکتا ہے۔آپ اُٹھے نہیں جب تک کہ مجھ سے پختہ اقرار نہیں لے لیا اور چند دنوں میں میری اور شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کے سفر کی تیاری ہو گئی اور حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے دعا کے ساتھ ہمیں الوداع کیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے خوش خوش با ہر شہر سے جا کر ہمیں یکے پر بٹھا کر رخصت کیا۔یہ واقعہ 1913ء کا ہے۔حضرت خلیفہ اول کی بیش قیمت نصائح حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب اور شیخ عبد الرحمن صاحب لاہوری کی روانگی سے قبل مورخہ 5 جون 1913ء کو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے انہیں دو خطوط لکھ