مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 103
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 99 نووارد: میں جو کچھ پوچھوں آپ اس کا جواب دیں۔اس سے ایک رائے قائم ہو سکتی ہے۔اگر چہ وہ لوگ جن کی طرف سے میں آیا ہوں آپ کا ذکر ہنسی اور تمسخر سے کرتے ہیں مگر میرا یہ خیال نہیں ہے۔آپ چونکہ ہمارے مذہب میں ہیں اور آپ نے ایک دعوی کیا ہے اس کا دریافت کرنا ہم پر فرض ہے۔حضرت اقدس : بات یہ ہے کہ مذاق ، تمسخر صحت نیت میں فرق ڈالتا ہے اور ماموروں کے لئے تو یہ سنت چلی آئی ہے کہ لوگ ان پر جنسی اور ٹھٹھا کرتے ہیں۔مگر حسرت جنسی کرنے والوں ہی پر رہ جاتی ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں فرمایا ہے: الوريَا حَسُرَةٌ عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِم مِّن رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِؤُون ﴾ (سورة يس: 31) اس کے بعد حضور نے اپنے دعوی کی صداقت میں دلائل پیش فرمائے اور صادق کی شناخت کے تین معیار بیان فرمائے جو یہ ہیں : اول : نصوص کو دیکھو۔پھر عقل کو دیکھو کہ کیا حالات موجودہ کے موافق کسی صادق کو آنا چاہئے یا نہیں۔تیسرا کیا اس کی تائید میں کوئی معجزہ اور خوارق بھی ہیں؟ پھر فرمایا: اب اگر کوئی سچے دل سے طالب حق ہو تو اس کو یہی باتیں یہاں دیکھنی چاہئیں اور اسکے موافق ثبوت لے۔اگر نہ پائے تو تکذیب کا حق اسے حاصل ہے۔اور اگر ثابت ہو جائیں اور وہ پھر بھی تکذیب کرے تو میری نہیں گل انبیاء کی تکذیب کرے گا۔نو وارد: اگر ان ضروریات موجودہ کی بناء پر کوئی اور دعوی کرے کہ میں عیسی ہوں تو کیا فرق ہوگا ؟ حضرت اقدس: اگر آپ کا یہ اعتراض صحیح ہوسکتا ہے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت بھی تو بعض جھوٹے نبی موجود تھے جیسے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی۔اگر انجیل اور توریت میں جو بشارات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موجود ہیں اس کے موافق یہ کہتے کہ یہ بشارات میرے حق میں ہیں تو کیا جواب ہو سکتا تھا؟ نو وارد: میں اس کو تسلیم کرتا ہوں۔حضرت اقدس یہ سوال اس وقت ہو سکتا تھا جب ایک ہی خبر پیش کرتا مگر میں تو کہتا ت ہوں کہ میری تصدیق میں دلائل کا ایک مجموعہ میرے ساتھ ہے۔نصوص قرآنیہ حدیثیہ میری