مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 102
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 98 98 ایک بغدادی الاصل ڈاکٹر صاحب کی قادیان آمد 13 فروری 1903ء کو لکھنو سے ایک ڈاکٹر صاحب تشریف لائے جن کا نام البدر میں محمد یوسف درج ہے۔بقول ان کے وہ بغدادی الاصل تھے اور عرصہ سے لکھنو میں مقیم تھے۔ان کے چند احباب نے انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات جاننے کے لئے بھیجا۔چنانچہ وہ بعد از مغرب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے اور شرف ملاقات حاصل کیا۔پھر ان کی حضور سے گفتگو ہوئی۔ذیل میں اس کے چند حصے درج کئے جاتے ہیں: حضرت اقدس: آپ کہاں سے آئے ہیں؟ نو وارد: میں اصل رہنے والا بغداد کا ہوں مگر اب عرصہ سے لکھنو میں رہتا ہوں۔وہاں کے چند آدمیوں نے مجھے مستعد کیا کہ قادیان جا کر کچھ حالات دیکھ آئیں۔حضرت اقدس: کیا آپ یہاں کچھ عرصہ ٹھہریں گے؟ نو وارد کل جاؤں گا۔حضرت اقدس: آپ دریافت حالات کے لئے آئے اور کل جائیں گے۔اس سے کیا فائدہ ہوا ؟ یہ تو صرف آپ کو تکلیف ہوئی۔دین کے کام میں آہستگی سے دریافت کرنا چاہئے تات کہ وقتاً فوقتاً بہت سی معلومات ہو جائیں۔جب آپ کے دوستوں نے آپ کو منتخب کیا تھا تو آپ کو یہاں فیصلہ کرنا چاہئے۔جب آپ ایک ہی رات کے بعد چلے جائیں گے تو آپ کیا رائے قائم کر سکیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے : كونوا مع الصادقین کہ صادقوں کے ساتھ رہو یہ معیت چاہتی ہے کہ کسی وقت تک صحبت میں رہے۔کیونکہ جب تک ایک حد تک صحبت میں نہ رہے وہ اسرار اور حقائق کھل نہیں سکتے۔وہ اجنبی کا اجنبی اور بیگا نہ ہی رہتا ہے اور کوئی رائے قائم نہیں کرسکتا۔