مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 87 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 87

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 88 83 اعجازُ الْمَسِيح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو اپنے بالمقابل فصیح و بلیغ عربی میں قرآن کریم کی سورۃ الفاتحہ کی تفسیر کا چیلنج دیا اور یہ فرمایا کہ: انہیں اجازت ہے کہ وہ اس تفسیر میں دنیا کے علماء سے مدد لیں ، عرب کے بلغاء فصحاء بلا لیں ، لاہور اور دیگر بلاد کے عربی دان پروفیسروں کو بھی مدد کے لئے طلب کریں۔اس مقابلہ کے لئے آپ نے 70 دن کا وقت مقرر کیا اور فرمایا کہ اگر پیر مہر علی شاہ گولڑوی کی تفسیر بہتر ثابت ہوئی تو میں ان کو 500 روپیہ انعام دوں گا اور اپنی کتابیں جلا دوں گا۔لیکن اگر وہ 70 دن میں تفسیر سورۃ فاتحہ نہ لکھ سکے تو مجھے ایسے لوگوں سے بیعت لینے کی بھی ضرورت نہیں اور نہ روپیہ کی خواہش ہے۔صرف یہی دکھلاؤں گا کہ کیسے انہوں نے پیر کہلا کر قابل شرم (ماخوذ از اعجاز مسیح روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 449-450) اس اعلان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی خاص تائید سے حضرت اقدس علیہ السلام نے مدت معینہ کے اندر 23 فروری 1901ء کو اعجاز اسیح کے نام سے فصیح و بلیغ عربی زبان میں سورہ فاتحہ کی تفسیر شائع کر دی۔اور باعلام الہی اپنی اس تفسیر کے متعلق لکھا کہ اگر ان ان کے علماء اور حکماء اور فقہاء اور ان کے باپ اور بیٹے متفق اور ایک دوسرے کے معاون ہو کر اتنی قلیل مدت میں اس تفسیر کی مثل لانا چاہیں تو ہرگز نہیں لاسکیں گے۔چنانچہ نہ پیر گولڑوی کو اور نہ جھوٹ بولا۔عرب و عجم کے کسی ادیب فاضل کو اس کی مثل لکھنے کی جرات ہوئی۔جب اس کتاب کے جواب سے ہندوستان کے تمام علماء عاجز آ گئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے بلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ بھجوانا مناسب خیال فرمایا۔چنانچہ مصر میں کئی جگہ یہ کتاب بھجوائی گئی اور ایک نسخہ اخبار "المنار کے ایڈیٹر کو بھی ارسال