مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 7
7 آپ نے کبھی دعوی نہیں کیا بلکہ آپ کا عقیدہ ہے کہ نبوت کی یہ دونوں قسمیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جاری تھیں حضور کی تشریف آوری سے ختم ہوگئی ہیں اور جو ان قسموں میں سے اب کسی قسم کی بھی نبوت کا دعوی کرے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔چنانچہ حضرت اقدس فرماتے ہیں:۔(۱) ''نبوت گو بغیر شریعت ہو اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہِ راست مقام نبوت حاصل کر سکے لیکن اس طرح پر ممتنع نہیں کہ وہ نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے مکتب و مستفاض ہو، یعنی ایسا صاحب کمال ایک جہت سے تو امتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتساب انوار محمد یہ آیات کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو۔“ (۲) '' آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ایک خاص فخر دیا گیا ہے کہ وہ ان معنوں سے خاتم الانبیاء ہیں کہ ایک تو تمام کمالات نبوت اُن پر ختم ہیں، اور دوسرے یہ کہ اُن کے بعد کوئی نئی شریعت لانے والا رسُول نہیں اور نہ کوئی ایسا نبی ہے جو اُن کی اُمت سے باہر ہو۔“ (ضمیمه چشمه معرفت صفحه ۹) (۳) یہ الزام جو مجھ پر لگایا جاتا ہے کہ گویا میں ایسی نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں جس سے مجھے اسلام سے کچھ تعلق نہیں رہتا اور جس کے یہ معنے ہیں کہ میں مستقل طور پر اپنے تئیں ایسا نبی سمجھتا ہوں کہ قرآن شریف کی پیروی کی کچھ حاجت نہیں رکھتا اور اپنا علیحدہ کلمہ اور علیحدہ