مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 6 of 24

مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 6

6 وسیلہ وھیل سے نہیں ملی بلکہ آپ سے چھ سو برس پہلے ہر اور است مل چکی تھی۔اور حدیثوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے جو ایک مسیح کے آنے کی خبر دی ہے اور جسے حضور نے مسلم شریف کی روایت کے مطابق نبی اللہ قرار دیا ہے اس سے حضرت مسیح موسوی مراد نہیں بلکہ اس امت کا ایک فرد کامل مراد ہے۔اور اس کی نبوت یہی تیسری قسم کی نبوت ہے۔کیا یہ تعجب کا مقام نہیں کہ ایک طرف تو ہمارے غیر احمدی بھائی یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا اور دوسری طرف ایک مستقل نبی ( حضرت عیسی علیہ السلام ) کی آمد کے قائل ہیں جن کی نبوت حضور کے وسیلہ سے نہیں بلکہ براہ راست تھی۔اور باوجود اس کے یہ خیال کرتے ہیں کہ اس عقیدہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت میں کچھ فرق نہیں آتا۔لیکن اگر ہم یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر قسم کی نبوت بند ہے سوائے اس کے جو حضور کی کامل متابعت واطاعت میں حضور کے وسیلہ و طفیل سے ملے تو ہمارے متعلق یہ فتویٰ صادر کر دیتے ہیں کہ یہ لوگ نعوذ باللہ حضور علیہ السلام کی ختم نبوت کے منکر ہیں۔کاش وہ خداتری کے ساتھ غور کریں کہ فی الحقیقت ختم نبوت کا انکار کس کے عقیدے سے لازم آتا ہے؟ افسوس ہے کہ مخالف حضرات کبھی تو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی طرف نبوت غیر تشریعیہ مستقلہ کا دعویٰ منسوب کرتے ہیں اور کبھی بات تشریعہ حقیقیہ کا۔بحالیکہ ان دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی بات کا بھی