مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 5 of 24

مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 5

5 قرآن مجید کے ذریعہ شریعت مکمل فرما دی ہے۔اور غیر تشریعی نبوت جو براہ راست ملتی تھی اس لئے بند ہے کہ خاتم النبیین کے بعد ایسا نبی کوئی نہیں آسکتا جو بغیر آپ کے وسیلہ وفیل کے ثبوت پانے والا ہو۔اور یہی ختم نبوت کا حقیقی مفہوم ہے جس سے تمام انبیاء و مرسلین علیہم السلام پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے رتبہ عالی کی برتری وفضیلت کا اظہار ہوتا ہے۔پہلی قسم کی نبوت یعنی نبوت تشریعی کے متعلق تو ہمارا اور ہمارے غیر احمدی بھائیوں کا اتفاق ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قطعی طور پر بند ہے۔لیکن دوسری اور تیسری قسم کی بات کے متعلق اختلاف ہے۔اُن کے نزدیک دوسری قسم کی بات جاری ہے۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ آئندہ کسی وقت حضرت عیسی علیہ السلام آسمان سے نازل ہونے والے ہیں جو غیر تشریعی نبی ہوں گے۔لیکن ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ ایسی غیر تشریعی نبوت بھی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ وطفیل سے نہ ملی ہو اُسی طرح بند ہے جیسی کہ تشریعی نبوت۔اور جیسا کہ حضور کے بعد کوئی تشریعی نبی نہیں آسکتا اسی طرح ایسا غیر تشریعی نبی بھی نہیں آسکتا جس نے نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ طفیل سے نہیں بلکہ براہ راست پائی ہو۔ہاں تیسری قسم کی نبوت جس میں یہ دو شرطیں ہیں کہ (۱) وہ بغیر شریعت کے ہو اور (۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی واطاعت میں آپ کے وسیلہ طفیل سے ملے ، جاری ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہم حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کے قائل نہیں۔کیونکہ اُن کو نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی متابعت کے بعد آپ کے