مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 4
4 شریعت نہیں لائے تھے بلکہ موسوی شریعت یعنی توریت کے مطابق فیصلہ کرتے یہ دونوں قسم کی نبوتیں (یعنی خواہ تشریعی ہو یا غیر تشریعی ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے خدا تعالیٰ کی طرف سے براہ راست بغیر کسی گزشتہ نبی کے واسطہ اور طفیل کی شرط کے ملا کرتی تھیں۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کی وجہ سے ان دونوں قسموں کی نبوت کا دروازہ بند ہو گیا۔اور ایک تیسری قسم کی نبوت کا دروازہ کھولا گیا۔جو غیر تشریعی ظلی نبوت ہے۔یعنی ایسی نبوت جو نہ تو شریعت والی ہے اور نہ براہِ راست ملنے والی۔بلکہ غیر تشریعی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ طفیل اور فیضان سے ملنے والی نبوت ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُوْلَ فَأُولَئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيِّنَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّلِحِيْنَ وَ حَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًاه ( سورة نساء ع ۹ ) یعنی جو اطاعت کریں گے اللہ اور اس رسول ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) کی تو یہ لوگ ان میں سے ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی نبیوں ، صدیقوں ، شہیدوں اور صالحین میں سے اور اچھے ہیں یہ لوگ رفیق۔اس آیت کریمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صرف ایسی بات کے جاری ہونے کا ذکر ہے جو حضور کی پیروی واطاعت میں حضور کے وسیلہ طفیل سے ملنے والی ہے۔نئی شریعت والی نبوت تو اس لئے بند ہے کہ اللہ تعالیٰ نے