مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 1
1 مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ ایک زمانہ وہ تھا جب غیر احمدی علماء جماعت احمدیہ سے حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی وفات کے موضوع پر مباحثات و مناظرات کرتے تھے اور اسی پر احمدیت کی صداقت وعدم صداقت کا انحصار سمجھا جاتا تھا کہ قرآن مجید و احادیث سے وفات مسیح علیہ السلام کا مسئلہ ثابت ہوتا ہے یا نہیں۔مگر اب یہ مسئلہ اتنا صاف ہو چکا ہے کہ بڑے بڑے علماء نے بھی جماعت احمدیہ کے مسلک کی صحت کو تسلیم کر لیا ہے اور وہ قرآن مجید کی روشنی میں وفات مسیح کے قائل ہو گئے ہیں۔مثال کے طور پر علماء از ہر کی مجلس افتاء کے بہت بڑے رُکن علامہ محمود شلتوت کے فتویٰ کا ذکر کافی ہے جس میں انہوں نے صاف اور واضح الفاظ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیش کردہ دلائل وفات مسیح علیہ السلام کی حرف بحرف تائید کی ہے۔ہندوستان کے علماء کا عام رویہ بھی اب یہی ہے کہ وہ اس موضوع پر جماعت احمدیہ سے گفتگو کرنے سے حتی الوسع پہلو تہی کرتے ہیں۔گو وہ اپنے وقار کی خاطر نیز اس خیال سے کہ عوام کا رجحان جماعت احمدیہ کی طرف نہ ہو جائے کھلے لفظوں میں وفات مسیح کے اقرار کی جرات نہ کریں مگر ان کا عام طور سے اس مسئلہ پر بحث کرنے سے یہ کہہ کر گریز کرنا کہ اس کا مرزا صاحب کی صداقت سے کوئی تعلق نہیں ظاہر کرتا ہے کہ اب ان میں اس موضوع پر گفتگو کرنے کی