مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 21
21 بھاری ہوگا۔“ (کرامات الصادقین صفحه ۲۵) (۷) میں اُس کے رسول پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں۔اور اس کی شریعت خاتم الشرائج ہے۔مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں۔یعنی وہ نبوت جو اُس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے د وختم نہیں کیونکہ وہ محدی نبوت ہے یعنی اس کا محل ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہے۔اور اسی کا مظہر ہے اور اسی سے فیضیاب ہے۔خدا اُس شخص کا دشمن ہے جو قرآن شریف کو منسوخ کی طرح قرار دیتا ہے اور محمدی شریعت کے برخلاف چلتا ہے اور اپنی شریعت چلانا چاہتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتا بلکہ آپ کچھ بننا چاہتا ہے مگر خدا اُس شخص سے پیار کرتا ہے جو اس کی کتاب قرآن شریف کو اپنا دستور العمل قرار دیتا ہے اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو در حقیقت خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور اُس کے فیض کا اپنے تئیں محتاج جانتا ہے۔پس ایسا شخص خدا تعالیٰ کی جناب میں پیارا ہو جاتا ہے۔اور خدا کا پیار یہ ہے کہ اُس کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اس کو اپنے مکالمہ مخاطبہ سے مشرف کرتا ہے اور اس کی حمایت میں اپنے نشان ظاہر کرتا ہے اور جب اُس کی پیروی کمال کو پہنچتی ہے تو ایک ظلی نبوت اُس کو عطا کرتا ہے جو نبوت محمدیہ کا خلق ہے یہ اس لئے کہ تا اسلام ایسے لوگوں کے وجود سے تازہ رہے اور تا اسلام ہمیشہ مخالفوں پر غالب رہے۔نادان آدمی جو در اصل دشمن دین