مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 20
20 میں مسلمانوں کو سورہ فاتحہ میں گزشتہ نبیوں کا وارث ٹھہراتا ہے۔اور دُعا سکھلاتا ہے کہ جو پہلے نبیوں کو نعمتیں دی گئی تھیں وہ طلب کریں۔مگر جس کے ہاتھ میں صرف قصے ہیں وہ کیونکر وارث کہلا سکتا ہے۔افسوس ان لوگوں پر کہ ان لوگوں کے آگے تمام برکات کا چشمہ کھولا گیا۔مگر یہ نہیں چاہتے کہ ایک گھونٹ بھی اس میں سے پیئیں۔چشمه مسیحی صفحه ۶۷ و ۶۸) (۶) بالآخر پھر میں عامہ ناس پر ظاہر کرتا ہوں کہ مجھے اللہ جل شانہ کی قسم ہے کہ میں کافر نہیں۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ میرا عقیدہ ہے۔اور لكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّنَ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت میرا ایمان ہے میں اپنے اس بیان کی صحت پر اس قدر قسمیں کھاتا ہوں جس قدر خدا تعالی کے پاک نام ہیں اور جس قدر قرآن کریم کے حرف ہیں اور جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خدا تعالیٰ کے نزدیک کمالات ہیں کوئی عقیدہ میرا اللہ اور رسول کے فرمودہ کے برخلاف نہیں۔اور جو کوئی ایسا خیال کرتا ہے خود اس کی غلط منہمی ہے اور جو شخص مجھے اب بھی کافر سمجھتا ہے اور تکفیر سے باز نہیں آتا وہ یقیناً یاد رکھے کہ مرنے کے بعد اُس کو پو چھا جائے گا میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا خدا اور رسول پر وہ یقین ہے کہ اگر اس زمانہ کے تمام ایمانوں کو تر از و کے ایک پلہ میں رکھا جائے اور میرا ایمان دوسرے پلّہ میں تو بفضلہ تعالیٰ یہی پلّہ