مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 16 of 24

مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 16

16 سب کے سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں جمع کر دیئے گئے۔اور اس طرح پر آپ طبعا خاتم انہین ٹھہرے۔اور ایسا ہی وہ جمیع تعلیمات۔وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں وہ قرآن شریف پر آکر ختم ہو گئے۔اور قرآن شریف خاتم الکتب ٹھہرا۔اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مجھ پر اور میری جماعت پر جو یہ الزام لگایا۔جاتا ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم العین نہیں مانتے یہ ہم پر افتر اعظیم ہے۔ہم جس قوت یقین معرفت اور بصیرت کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء مانتے اور یقین کرتے ہیں اس کا لاکھواں حصہ بھی وہ نہیں مانتے ان کا ایسا ظرف ہی نہیں ہے۔وہ اس حقیقت اور راز کو جو خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت میں ہے سمجھتے ہی نہیں ہیں۔انہوں نے صرف باپ دادا سے ایک لفظ سُنا ہوا ہے۔اور اس کی حقیقت سے بے خبر ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ ختم نبوت کیا ہوتا ہے۔اور اس پر ایمان لانے کا مفہوم کیا ؟ مگر ہم بصیرت تام سے (جس کو اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء یقین کرتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ نے ہم پر ختم نبوت کی حقیقت کو ایسے طور پر کھول دیا ہے کہ اس عرفان کے شربت سے جو ہمیں پلایا گیا ہے ایک خاص لذت پاتے ہیں۔جس کا اندازہ کوئی نہیں کرسکتا بجز ان لوگوں کے جو اس چشمہ سے سیراب ہوں۔دُنیا کی مثالوں میں سے ہم ختم نبوت کی مثال اس طرح پر دے سکتے ہیں کہ جیسے چاند ہلال سے شروع ہوتا ہے۔اور چودھویں تاریخ پر آکر اس کا کمال ہو جاتا ہے جبکہ