مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 3
3 س کے عقائد میں سے نہیں ہیں۔اور ظاہر ہے کہ کسی جماعت کی طرف غلط عقائد منسوب کر کے زیادہ دیر تک کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔ذیل میں ہم مسئلہ ختم نبوت کے بارے میں جماعت احمدیہ کے نقطہ نگاہ کے متعلق چند اشارات درج کرتے ہیں۔مقصود یہ دکھانا ہے کہ جماعت احمدیہ کا مسلک ہی وہ مسلک ہے جو معقول اور صحیح قرار پاسکتا ہے اور یہ کہ گزشتہ چودہ سو برس میں امت محمدیہ میں جو بڑے بڑے بزرگ گزرے ہیں وہ بھی اسی مسلک کے قائل رہے ہیں۔سب سے پہلے یہ جانا چاہئے کہ اسلامی اصطلاح کی رُو سے نبی وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بکثرت شرف مکالمہ و مخاطبہ پانے والا ہو۔اور قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ نبوت کی تین قسمیں ہیں۔اوّل تشریعی یعنی جس کے ساتھ نئی شریعت اور نئے احکام ہوں۔دوم غیر تشریعی یعنی جس کے ساتھ نئی شریعت اور نئے احکام نہ ہوں۔غیر تشریعی نبی اُس شریعت کے تابع اور خادم ہوا کرتے تھے جو اُن سے پہلے کسی تشریعی نبی پر نازل شدہ ہوتی تھی۔اور اُسی کے مطابق فیصلے کیا کرتے تھے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے۔إِنَّا أَنْزَلْنَا التَّوْرَةَ فِيْهَا هُدًى وَ نُوْرٌ ۚ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّوْنَ الَّذِيْنَ أَسْلَمُوا - (المائده : ۴۵) یعنی ہم نے ( موسٹی پر ) توریت اُتاری اس میں ہدایت اور نو ر تھا اُسی کے مطابق وہ نبی فیصلہ کرتے تھے جو فرمانبردار ہوئے ہیں۔آیت سے ظاہر ہے کہ کئی نبی جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئے کوئی نئی