مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 2 of 24

مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 2

2 ہمت نہیں رہی۔ورنہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت سے اس مسئلہ کا جس قدر تعلق ہے وہ تو پہلے بھی اتنا ہی تھا جتنا اب ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ پہلے تو اس موضوع پر بڑے زور شور سے مباحثات ہوتے تھے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے علماء کے ابتدائی مباحثات جولدھیانہ اور دہلی میں علی الترتیب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی محمد بشیر صاحب بھوپالی کے ساتھ ہوئے اُن کا موضوع یہی مسئلہ وفات مسیح تھا جس سے جماعت احمدیہ کے ساتھ اس مسئلہ کے تعلق کی اہمیت ظاہر ہے۔مگر اب اس سے پیچھا چھڑانے کیلئے حیلوں بہانوں سے کام لیا جاتا ہے۔پس حقیقت یہ ہے کہ علماء اس مسئلہ میں جماعت احمدیہ کے دلائل کے سامنے عاجز آ کر اپنے موقف کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔اور یہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبردست فتح ہے۔حضور کا ایک الہام ہے میری فتح ہوئی میرا غلبہ ہوا۔یہ الہام اور بھی کئی رنگ میں پورا ہو کر اپنی صداقت ظاہر کر چکا ہے مگر مسئلہ وفات مسیح" میں اس کا ظہور جس صاف اور کھلے کھلے طور پر ہوا ہے وہ ایک عام اور معمولی سمجھ بوجھ کے انسان کے لئے بھی عبرت و بصیرت کا موجب ہے۔وفات مسیح کے محاذ سے پسپا ہو کر اب علماء نے جماعت احمدیہ کے خلاف اپنا سب سے مضبوط مورچہ مسئلہ ختم نبوت کو قرار دے رکھا ہے۔لیکن وہ دن دور نہیں جب یہاں سے بھی ان کو بھا گنا پڑے گا۔کیونکہ وہ اس مسئلہ پر بحث کے زوران میں اکثر ایسی غلط باتیں جماعت احمدیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں جو