مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 15
خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (15) ضروری ہے کہ باپ کچھ وقت بچوں کے ساتھ باہر گزار آئے۔پھر باپوں کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ دینی تربیت کی طرف توجہ دیں۔جہاں بچوں کی تربیت کی طرف عملی توجہ دیں وہاں ان کے لئے دعاؤں کی طرف بھی توجہ دیں۔یہ بھی ضروری چیز ہے۔تربیت کے اصل پھل تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے لگتے ہیں لیکن جو اپنی کوشش ہے وہ انسان کو ضرور کرنی چاہئے۔تربیت کے طریق اور بچوں کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ : ہدایت اور تربیت حقیقی خدا تعالیٰ کا فعل ہے (حقیقی تربیت جو ہے اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔سخت پیچھا کرنا اور ایک امر پر اصرار کو حد سے گزار دینا یعنی بات بات پر بچوں کو روکنا اور ٹوکنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ گویا ہم ہی ہدایت کے مالک ہیں اور ہم اس کو اپنی مرضی کے مطابق ایک راہ پر لے آئیں گے۔یہ ایک قسم کا شرک خفی ہے۔اس سے ہماری جماعت کو پر ہیز کرنا چاہئے۔اپنے بارے میں فرمایا کہ ” ہم تو اپنے بچوں کے لئے دعا کرتے ہیں اور سرسری طور پر قواعد اور آداب تعلیم کی پابندی کراتے ہیں۔“ ( تعلیم ہماری کیا ہے؟ اس کے آداب کیا ہیں؟ کیا قواعد ہیں؟ اس کی پابندی کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔بس اس سے زیادہ نہیں اور پھر اپنا پورا بھروسہ اللہ تعالیٰ پر رکھتے ہیں۔جیسا کسی میں سعادت کا تخم ہو گا وقت پر سرسبز ہو جائے گا۔“ 66 ( ملفوظات جلد 2 صفحہ 5۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) پس ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فرماتے ہیں کہ ہم دعا کرتے ہیں تو ان دعاؤں کے معیار بھی بہت بلند ہیں۔اس بات کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئے۔اور دعا کے یہ معیار حاصل کرنے کے لئے ہمیں تو بہت زیادہ محنت کرنے کی ضرورت ہے۔