مردوں کو اہم زریں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 16 of 25

مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 16

خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (16) یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔اس لئے اس طرف باپوں کو توجہ دینی چاہئے۔بحیثیت باپ بچوں کی تربیت کی طرف کس طرح اور کس قدر توجہ دینی چاہئے اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام بڑی تفصیل سے ایک جگہ بیان فرماتے ہیں کہ د بعض لوگوں کا یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ اولاد کے لئے کچھ مال چھوڑ نا چاہئے۔مجھے حیرت آتی ہے کہ مال چھوڑنے کا تو ان کو خیال آتا ہے مگر یہ خیال ان کو نہیں آتا کہ اس کا فکر کریں که اولا د صالح ہو۔طالح نہ ہو (یعنی بدکار اور بد نہ ہو بلکہ صالح اور نیک ہو۔) فرمایا کہ مگر یہ وہم بھی نہیں آتا اور نہ اس کی پروا کی جاتی ہے۔بعض اوقات ایسے لوگ اولا د کے لئے مال جمع کرتے ہیں اور اولاد کی صلاحیت کی فکر اور پروانہیں کرتے۔وہ اپنی زندگی ہی میں اولاد کے ہاتھ سے نالاں ہوتے ہیں اور اس کی بداطوار یوں سے مشکلات میں پڑ جاتے ہیں اور وہ مال جو انہوں نے خدا جانے کن کن حیلوں اور طریقوں سے جمع کیا تھا آخر بدکاری اور شراب خوری میں صرف ہوتا ہے اور وہ اولا دایسے ماں باپ کے لئے شرارت اور بد معاشی کی وارث ہوتی ہے۔فرمایا کہ اولاد کا ابتلا بھی بہت بڑا ابتلا ہے۔اگر اولا دصالح ہو تو پھر کس بات کی پروا ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے وَهُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ (الاعراف 197:)۔یعنی اللہ تعالیٰ آپ صالحین کا متولی اور متکفل ہوتا ہے۔اگر بد بخت ہے تو خواہ لاکھوں روپے اس کے لئے چھوڑ جاؤ وہ بدکاریوں میں تباہ کر کے پھر قلاش ہو جائے گی اور ان مصائب اور مشکلات میں پڑے گی جو اس کے لئے لازمی ہیں فرمایا جو شخص اپنی رائے کو خدا تعالیٰ کی رائے اور منشاء سے متفق کرتا ہے وہ اولاد کی طرف سے مطمئن ہو جاتا ہے اور وہ اسی طرح پر ہے کہ اس کی صلاحیت کے لئے کوشش کرے اور دعائیں کرے۔اس صورت میں خود اللہ تعالیٰ اس کا تکفل کرے گا“۔اس کو