مردوں کو اہم زریں نصائح

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 10 of 25

مردوں کو اہم زریں نصائح — Page 10

خطبہ جمعہ 19 مئی 2017 (10) ڈپٹ اور ماردھاڑ کے کچھ نہیں ہوتا۔عورتیں مردوں سے سیکھنے کے بجائے بہت سے گھروں میں عورتیں مردوں کو سکھا رہی ہوتی ہیں یا ان کو توجہ دلا رہی ہوتی ہیں تا کہ بچے بگڑ نہ جائیں۔جن گھروں میں بھی بچے عدم تربیت کا شکار ہیں وہاں عموماً وجہ مردوں کی عدم توجہ یا بیوی اور بچوں پر بے جا سختی ہے۔کئی بچے بھی بعض دفعہ آ کے مجھے شکایت کر جاتے ہیں کہ ہمارے باپ کا ہماری ماں سے یا ہم سے سلوک اچھا نہیں ہے۔پس اگر گھروں کو پرامن بنانا ہے، اگر اگلی نسلوں کی تربیت کرنی ہے اور ان کو دین سے منسلک رکھنا ہے تو مردوں کو اپنی حالتوں کی طرف توجہ دینی ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام مردوں کو توجہ دلاتے ہوئے مزید فرماتے ہیں کہ ”مرد اپنے گھر کا امام ہوتا ہے۔پس اگر وہی بداثر قائم کرتا ہے تو کس قدر بداثر پڑنے کی امید ہے“۔(اس کے عمل سے بداثر قائم ہو رہا ہے تو پھر آگے نسلوں میں بھی بداثر پڑتا چلا جائے گا۔) فرمایا کہ ”مرد کو چاہئے کہ اپنے قومی کو برحل اور حلال موقع پر استعمال کرے مثلاً ایک قوت غضبی ہے۔“ ( غصہ ہے ) ” جب وہ اعتدال سے زیادہ ہو تو جنون کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔(غصہ فطرت میں ہے۔ایک انسان میں ہوتا ہے۔لیکن جب حد سے زیادہ بڑھ جائے تو پھر وہ جنون یا پاگل پنے کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔فرمایا کہ ) ” جنون میں اور اس میں بہت تھوڑا فرق ہے۔جو آدمی شدید الغضب ہوتا ہے اس سے حکمت کا چشمہ چھین لیا جاتا ہے۔بلکہ اگر کوئی مخالف ہو تو اس سے بھی مغلوب الغضب ہو کر گفتگو نہ کرے“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 208۔ایڈیشن 1985 ء مطبوعہ انگلستان )۔گھر والوں کی بات تو علیحدہ رہی۔مخالفوں سے بھی اس طرح غضبناک ہو کے باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔پس یہ ہے معیار کہ گھر میں بیوی بچوں پر غصہ نہیں کرنا اور یہ غصہ تو علیحدہ رہا، اگر