مردانِ خدا — Page 85
مردان خدا ۸۵ حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب سیالکوٹی سے نکلوانہ دوں گا مجھے چین نہ آئے گا۔ایک روز اس نے ایسا مارا کہ آپ کا ہاتھ کا انگوٹھا سوج گیا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کو علم ہوا تو آپ نے سکول جانے سے منع کر دیا اور خود گھر پر فارسی پڑھانے لگے“۔(رفقاء احمد : جلد: اول: صفحہ: ۱۷۷) علاقہ ملکانہ میں دعوت الی اللہ اور قربانیاں حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب کو ۱۹۲۳ء میں ملکانہ کے علاقہ میں تحریک شدھی کے خطرناک اثرات کو دور کرنے کے سلسلہ میں خدمت کا موقع ملا۔یہ عرصہ بہت ہی کٹھن اور مشکل حالات کا تھا۔مگر آپ نے راہ خدا میں ہر قسم کی تکالیف کو برداشت کیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ آپ کی مساعی میں بہت برکت ڈالی۔رفقاء احمد کے مصنف اختصاراً آپ کی مساعی اور قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں۔ارتداد ملکانہ کے وقت ۱۹۲۳ء میں آپ کو علاقہ اجمیر میں بھیجا گیا موضع دیوکھیڑہ تحصیل بیاور میں متعین ہوئے لوگ منشی صاحب کے مخالف ہو گئے۔۔۔۔پہلے تو آپ کا کھانا پکانے پر کوئی راضی نہ ہوا لیکن پھر ایک مسلمان بڑھئی نے خود بخود ہی منظور کر لیا۔پہلے دو تین دن آپ کو پتھریلی زمین پر سونا پڑا لیکن پھر کوئی شخص خود بخود ہی چار پائی دے گیا۔ان لوگوں کی حالت کا اندازہ اس امر سے ہو سکتا ہے کہ ایک گاؤں میں آپ گئے تو السلام علیکم کہا ایک شخص نے گستی ہاتھ میں پکڑ کر کہا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ تیرا سراُتار دوں۔آپ اس کے قریب ہو گئے اور کہا کہ بے شک آپ ایسا ہی کر لیں جس سے متحیر ہو کر پیچھے ہو گیا۔لیکن آپ کے علاج سے اس کے لڑکے کی آنکھیں شفایاب ہو گئیں وہ بہت معتقد ہو گیا اور اس نے معافی مانگ لی۔( رفقاء احمد : جلد اوّل: صفحه : ۱۹۰،۱۸۹) خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے جب آتی ہے تو پھر عالم کو اک عالم دکھاتی ہے