مردانِ خدا — Page 83
مردان خدا ۸۳ حضرت چوہدری برکت علی صاحب گڑھ شنکری عبد الکریم صاحب کے دستخط سے بیعت کی منظوری کی اطلاع ملی۔خط ملنے پر میری خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔الحمد للہ ثم الحمد للہ ( رفقاء احمد : جلد: ۷: صفحہ: ۲۲۶، ۲۲۷) راہ مولا میں گالیاں سننا حضرت چوہدری برکت علی صاحب بیعت کرنے کے بعد پہلی مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت اور دستی بیعت کرنے کیلئے قادیان کی طرف روانہ ہوئے تو بٹالہ کا واقعہ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں۔” جب بٹالہ سٹیشن سے نکلا تو سڑک پر ایک چھوٹی سی مسجد نظر پڑی۔میں نے کہا کہ مسجد میں ہی رات کا بقیہ وقت گزار کر صبح قادیان کی طرف جانا چاہئے۔مسجد میں گئے ابھی تھوڑا وقت ہی ہوا تھا کہ ایک صاحب نے آ کر کہا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا میں مسافر ہوں۔قادیان جانا ہے۔اس نے گالی دیتے ہوئے سختی سے کہا کہ خبیث مرزائی آ کر مسجد کو خراب کر جاتے ہیں صبح مسجد دھونی پڑے گی۔تم یہاں سے نکل جاؤ۔میں نے کہا میں تو کبھی یہاں آیا نہیں نہ کسی کو جانتا ہوں۔خدا کے گھر سے کیوں نکالتے ہو؟ میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔اس پر وہ گالیاں دیتا اور سخت سست کہتا بڑبڑاتا ہوا چلا گیا میں صبح فجر کی نماز پہلے وقت پڑھ کر قادیان کے لئے روانہ ہوا اور یہ مسافت پیدل طے کی“۔( رفقاء احمد : جلد : ۷ : صفحہ: ۲۲۷) پس آپ کو بھی اللہ کی راہ میں گالیاں سننا پڑیں اس طرح عزت کی قربانی آپ نے بھی خدا کی راہ میں بشاشت سے پیش کی۔گویا آپ زبان حال سے یہ شعر پڑھ رہے تھے۔گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے