مردانِ خدا — Page 76
مردان خدا حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب مقابلہ کیا اور سب کام کاج چھوڑ کر اپنا سارا وقت ( دعوت الی اللہ ) میں صرف کرنا آپ نے اپنا معمول بنا رکھا تھا۔( رفقاء احمد : جلد : ۶: ص:۳۲) بیعت کے ساتھ ہی اللہ کی طرف سے امتحان حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب خود فرماتے ہیں۔اس عاجز نے آپ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔ناقل ) کے دست حق پرست پر بیعت کی تو ایک لمبی دعا کے بعد اسی وقت آپ نے فرمایا تھا کہ قاضی صاحب آپ کو ایک سخت ابتلاء پیش آنے والا ہے چنانچہ اس پیشگوئی کے بعد اس عاجز نے کئی اپنے عزیز دوستوں کو اس سے اطلاع بھی دے دی کہ حضور نے میری نسبت اور میرے حق میں ایک ابتلائی حالت کی خبر دی تھی۔اب اس کے بعد جس طرح پر وہ پیشگوئی پوری ہوئی وہ وقوعہ بعینہ عرض کرتا ہوں کہ میں حضرت اقدس سے روانہ ہو کر ابھی راستہ میں ہی تھا کہ مجھے خبر ملی کہ میری اہلیہ بعارضہ درد گردہ و قولنج و قے مفرط سخت بیمار ہے جب میں گھر پہنچا اور دیکھا تو واقع میں ایک نازک حالت طاری تھی اور عجیب تریہ کہ شروع بیماری وہی رات تھی جس کی شام کو حضور نے اس ابتلاء سے خبر دی تھی۔شدت درد کا یہ حال تھا کہ جان ہر دم ڈوبتی جاتی تھی اور بے تابی ایسی تھی کہ با وجود کثیر الحیاء ہونے کے مارے درد کے بے اختیار ان کی چھینیں نکلتی تھیں اور گلی کوچے تک آواز پہنچتی تھی اور ایسی نازک اور دردناک حالت تھی کہ اجنبی لوگوں کو بھی وہ حالت دیکھ کر رحم آتا تھا۔شدت مرض تخمینا تین ماہ تک رہی۔اس قدر مدت میں کھانے کا نام تک نہ تھا صرف پانی پیتیں اور قے کر دیتیں۔دن رات میں پچاس ساٹھ مرتبہ متواتر قے ہوتی۔پھر درد قدرے کم ہوا مگر نادان طبیبوں کے بار بار فصد لینے سے ہزال مفرط کی مرض مستقل طور پر دامن گیر ہوگئی۔ہر وقت جاں بلب رہتیں۔دس گیارہ دفعہ تو مرنے تک پہنچ کر بچوں اور عزیز اقرباء کو پورے طور پر الوداعی غم والم سے رولایا۔غرض گیارہ مہینے تک طرح طرح کے دکھوں کے تختہ مشق رہ کر آخر کشادہ پیشانی بہوش تمام کلمہ شریف پڑھ کر ۲۸ برس کی عمر میں سفر جاودانی -