مردانِ خدا

by Other Authors

Page 46 of 97

مردانِ خدا — Page 46

مردان خدا ۴۶ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی کا تحریر کردہ معاہدہ سید نا حضرت اقدس کے حضور پہنچا۔حضور نے ملاحظہ فرما کر محفوظ کر لیا اور مجھے پھر حکم بھیج دیا کہ ” تم اب اپنے والد صاحب کے ساتھ چلے جاؤ‘ والد صاحب نے وہ معاہدہ سر عام لکھا جس کا علم تمام دوستوں کو ہو گیا اور اب عام چرچہ ہو گیا کہ عبدالرحمن کو اس کے والد صاحب ساتھ لے جائیں گے۔حضرت مولانا نورالدین صاحب گھر میں تھے۔ان کو بھی اطلاع ہو گئی۔حضور کے اس فیصلہ کا اثر ہمارے ڈیرہ میں گونہ غم اور افسردگی کے رنگ میں اور ہندو بازار اور ہندو گھرانوں میں خوشی و شادمانی کی شکل میں ظاہر ہوا۔بعض دوستوں نے گھبراہٹ تک کا بھی اظہار کیا اور اس فیصلے کو اپنی شکست سمجھ کر مغموم بھی ہوئے۔مگر فیصلہ چونکہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا تھا اس وجہ سے کسی کو مجال سخن نہ ہوئی اور سب نے میرے ساتھ مل کر سر تسلیم خم کیا“۔خدا کے جو ہیں وہ یہی کرتے ہیں وو وہ لعنت سے لوگوں کی کب ڈرتے ہیں حضرت بھائی جی فرماتے ہیں:۔الغرض میں اپنے آقا ، اپنے ہادی وراہنما، اپنے پیشوا ومقتدا کے حکم کی تعمیل میں اپنے والد صاحب کے ساتھ قادیان کی مقدس بستی سے رخصت ہو رہا ہوں۔میرا دل غمگین اور اداس ہے۔آنکھیں آنسو نہیں خون ٹپکا رہی ہیں اور سچ سچ میں یہ سمجھ رہا ہوں کہ گھر کو نہیں ماں اور بھائی بہنوں کی طرف نہیں بلکہ موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہوں۔میرے قدم لڑکھڑاتے ہیں اور بجائے آگے اُٹھنے کے پیچھے کو پڑتے ہیں۔اس طرح میں اس نہایت ہی پیاری بستی سے بادل ناخواستہ رخصت ہو گیا۔آہ!“ والد صاحب کا مصروف کرنا حضرت بھائی جی اپنے والد صاحب کے ہمراہ جب گاؤں پہنچے تو وہاں پر گزرنے والے