مردانِ خدا

by Other Authors

Page 45 of 97

مردانِ خدا — Page 45

مردان خدا ۴۵ حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی علم ہو۔میں کسی طرف نکل جاؤں کیونکہ میں جانتا تھا کہ والد صاحب مصلحت وقت کی وجہ سے نرم تھے۔ورنہ وہ میرے ( دین ) کی وجہ سے مجھے سخت تکلیف میں ڈالیں گے اور میرا یہ اندیشہ اس حد تک بڑھا ہوا تھا کہ شائد وہ مجھے زندہ ہی نہ چھوڑیں گے اور اس خیال کی تائید میں میرے اپنے گھرانے کے بعض پرانے واقعات میرے سامنے آن موجود ہوئے اور میں نے یقین کر لیا کہ آج ایک بھاری امتحان اور کٹھن گھاٹی میری راہ میں سد سکندری آن بنی ہے۔جس سے سلامت نکل جانا میری طاقت سے بالکل باہر ہے۔ایسے مشکلات میں مجھے پہلے بھی خدا کی طرف جھکنے کی عادت تھی۔مگر قادیان کی زندگی اور سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت کی وجہ سے دعا کی اور زیادہ عادت ہو گئی تھی۔آخر میں چند منٹ کیلئے تنہائی میں چلا گیا اور خدا کے حضور جھک کر گڑ گڑایا اور اس سے امداد چاہی۔جس کے نتیجہ میں میرا بیٹھتا ہوا دل اور ٹوٹی ہوئی کمر قوی ہو گئے اور خدا تعالیٰ نے مجھے پر ایک سکینت اور اطمینان نازل کر دیا۔والد صاحب کا اقرار نامہ ” بہر حال والد صاحب آئے میں نے وہ فرمان ان کو دیدیا جس کو پڑھ کر انہوں نے قلم دوات لی اور قلم برداشتہ ایک بہت مضبوط معاہدہ لکھ کر دے دیا جو سید نا حضرت اقدس کے الفاظ سے بھی کہیں زیادہ قوی اور حلف سے موکد تھا۔والد صاحب نے بجائے پر میشور کے نام کی سوگند کے الفاظ لکھنے کے شروع ہی ان الفاظ سے کیا کہ:۔میں فلاں ابن فلاں خدائے وحدہ لاشریک کے نام کی قسم اٹھا کر یہ اقرار کرتا ہوں۔وغیرہ وغیرہ والد صاحب کی تحریر پختہ تھی کیونکہ وہ خوشنویس اور کے منشی تھے۔فارسی زبان میں ان کو خاص مہارت تھی، جس کی وجہ سے مضمون نویسی اور انشا پردازی کا ملکہ ان میں تھا۔ان