مردانِ خدا — Page 40
مردان خدا حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی اب ایمان چھپا ناممکن نہیں چند ہی روز بعد میں نے سید بشیر حیدر صاحب سے کہا کہ اب میں اپنے ان خیالات کو چھپا نہیں سکتا اور چاہتا ہوں کہ اظہار ( دین حق ) کر دوں۔یہ سن کر سید صاحب جو دل سے چاہتے تھے مگر مجھے زبانی کبھی کچھ نہ کہتے تھے خوش ہوئے اور فوراً جا کر حضرت سید میر حامد شاہ صاحب کے پاس ماجرا عرض کر دیا۔انہوں نے وقت دے کر مجھے بلوایا۔میں میر حامد شاہ صاحب کے مکان پر ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔محبت اور اخلاص سے پیش آئے اور میری زبان سے میری غرض و مقصد سن کر مجھے قریباً ایک گھنٹہ تک نہایت موثر پیرا یہ میں تلقین فرماتے رہے۔شاہ صاحب نے مجھے یقین کے ہرسہ مدارج کے متعلق کھول کر سنایا اور میرے علم میں بہت قیمتی معلومات کا اضافہ فرمایا۔مگر اظہار ( دین حق ) کے متعلق مجھے یہ مشورہ دیا کہ آپ کے بعض رشتہ دار چونکہ یہاں ہیں (میرے بعض رشتہ دار پولیس اور دوسرے محکمہ جات میں معز ز عہدوں پر تھے ) لہذا اندیشہ ہے کہ وہ لوگ روک ڈالیں گے یا شور و شر کر کے فساد برپا کریں گے۔بہتر ہو کہ تم قادیان چلے جاؤ۔میں اسی شام کی گاڑی سے تن کے تینوں کپڑے لیکر روانہ قادیان ہو گیا۔۔۔۔میری شکل و شباہت ابھی ہند و آنہ تھی لہذا بازار کے لوگ جب میں ان سے مرزا صاحب کے مکان کا پسته در یافت کرتا تعجب کرتے اور مجھے پکڑ کر بٹھا لیتے اور غرض و غایت اور مقصد دریافت کرنے کے درپے ہو جاتے۔چنانچہ بڑھے شاہ کی سہ منزلہ دوکانات سے لے کر چوک تک پہنچتے پہنچتے مجھے دس جگہ روکا گیا ہو گا۔جہاں سے میں کسی نہ کسی طرح دامن چھڑا کر آگے ہی آگے چلتا گیا۔سارے ہند و بازار میں چرچا ہو گیا اور جابجابا تیں ہونے لگیں۔لوگوں نے مجھے روکنے میں پورا زور صرف کیا اور بعض تو ہاتھ پکڑ کر بیٹھے رہتے تھے مگر میں