مردانِ خدا — Page 31
مردان خدا ۳۱ حضرت منشی ظفر احمد صاحب علی صاحب نے لدھیانہ میں حضور کی خدمت میں حاضر ہو کر بڑے الحاح سے دعا کی درخواست کی۔اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے جلال سے فرمایا۔اگر میں سچا ہوں اور میر اسلسلہ سچا ہے تو ( بیت الذکر ) تمہیں ضرور ملے گی“ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور اس کے عین مطابق با وجود شدید مخالفانہ حالات کے یہ بیت الذکر وہاں کی جماعت کوٹل گئی“۔( رفقاء احمد : جلد : ۴: صفحہ ۱۳۰) خدا کی راہ میں گالیاں برداشت کرنا دہلی میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا ایک مباحثہ مولوی محمد بشیر صاحب بھو پالوی کے ساتھ ہوا تھا۔اس موقع پر وہاں کے لوگوں نے بہت بدتمیزی کی۔گالیاں دیں۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب کتب کے حصول کے لئے مولوی محمد حسین صاحب فقیر جو شریف آدمی تھے ان کے پاس گئے۔مگر وہ گھر نہ ملے تو ان کے بچوں نے اس بندہ خدا کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔حضرت منشی صاحب جب واپس آرہے تھے تو مولوی صاحب نے ان کو دیکھ کر اپنے پاس اشارے سے بلایا اور کہا۔اگر آپ کسی سے ذکر نہ کریں تو جس قدر کتا بیں مطلوب ہوں میں دے سکتا ہوں میں نے کہا آپ اتنا احسان فرما ئیں تو میں کیوں ذکر کرنے لگا۔کہنے لگے جب مرزا صاحب مولوی نذیر حسین سے قسم لینے کیلئے جامع مسجد میں بیچ کے دروازے میں بیٹھے ہوئے تھے اس وقت میں دیکھتا تھا کہ انوار الہی آپ پر نازل ہوتے ہیں اور ان کی پیشانی سے شان نبوت عیاں تھی مگر میں اپنی اس عقیدت کو ظاہر نہیں کر سکتا“۔( رفقاء احمد : جلد : ۴: ص: ۱۲۳: روایت: ۸۹)