مردانِ خدا

by Other Authors

Page 17 of 97

مردانِ خدا — Page 17

مردان خدا حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی دہشت سی طاری ہو گئی“۔( حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی: حیات قدی : حصہ اوّل: ص: ۲۳ تا ۲۴: ۲۰ جنوری ۱۹۵۱ء: حیدر آباد دکن ) آپ فرماتے ہیں:۔اللہ کی راہ میں گالیاں کھانا موضع سعد اللہ پور جو ہمارے گاؤں سے جانب جنوب کوئی تین کوس کے فاصلہ پر واقع ہے۔یہاں کے اکثر حنفی لوگ بھی ہمارے بزرگوں کے ارادتمند تھے۔اس لئے میں کبھی کبھار اس موضع میں (دعوت الی اللہ ) کی غرض سے جایا کرتا تھا اور ان لوگوں کو سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت سمجھانے کی کوشش کرتا رہتا تھا۔اس موضع میں مولوی غوث محمد صاحب ایک اہل حدیث عالم تھے اور امرتسر کے غزنوی خاندان سے نسبت تلمذ رکھنے کی وجہ سے احمدیت کے سخت معاند اور مخالف تھے۔میں نے ایک روز ان کی موجودگی میں ظہر کے وقت مسجد میں لوگوں کو احمدیت کی (دعوت) کی اور انہیں بھی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کچھ کتا بیں اور رسالے مطالعہ کیلئے دیئے۔جب انہیں اس ( دعوت ) اور حضور اقدس کی کتابوں سے یہ علم ہوا کہ میں حضرت مرزا صاحب کو مسیح موعود اور امام مہدی تسلیم کرتا ہوں تو انہوں نے میرے حق میں بے تحاشا نحش گوئی شروع کر دی اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ذات والا صفات کے متعلق بھی بہت گند اچھالا۔میں نے انہیں بہتیر سمجھایا کہ آپ جتنی گالیاں چاہیں مجھے دے لیں لیکن حضرت اقدس علیہ السلام کی توہین نہ کریں مگر وہ اس سے باز نہ آئے۔آخر چاروناچار میں تخلیہ میں جا کر سجدہ میں گر پڑا اور روروکر بارگاہ ایزدی میں دعا مانگی اور رات کو بغیر کھانا کھائے ہی مسجد میں آکے سو گیا۔جب سحری کے قریب وقت ہوا تو مولوی غوث محمد صاحب مسجد میں میرے پاس پہنچے اور معافی مانگتے ہوئے مجھے کہنے لگے۔خدا کے لئے