مردانِ خدا

by Other Authors

Page 6 of 97

مردانِ خدا — Page 6

مردان خدا حضرت سید عبد اللطیف صاحب تلاوت قرآن کریم میں گزارا۔قید کے دوران بادشاہ نے کئی مرتبہ شہزادہ صاحب کو یہ کہا کہ آپ مسیح موعود علیہ السلام کا انکار کر دیں تو بچ سکتے ہیں مگر آپ نے ہر مرتبہ یہی کہا کہ میں صداقت کو کیسے چھوڑ دوں؟ اس پر میری ہر چیز قربان ہوسکتی ہے مگر مجھ سے اس صداقت کا انکار نہیں ہوسکتا۔کچھ ایسے مست ہیں وہ رخ خوب یار سے ڈرتے کبھی نہیں ہیں وہ دشمن کے وار سے راہ مولیٰ میں شہادت حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہزادہ صاحب کی شہادت کے واقعات کے تذکرہ میں فرماتے ہیں۔” جب چار مہینے قید کے گزر گئے تب امیر نے اپنے رو برو شہید مرحوم کو بلا کر پھر اپنی عام کچہری میں تو بہ کیلئے فہمائش کی اور بڑے زور سے رغبت دی کہ اگر تم اب بھی قادیانی کی تصدیق اور اُس کے اصولوں کی تصدیق سے میرے رو بروانکار کر و تو تمہاری جان بخشی کی جائے گی اور تم عزت کے ساتھ چھوڑے جاؤ گے۔شہید مرحوم نے جواب دیا کہ یہ تو غیر ممکن ہے کہ میں سچائی سے تو بہ کروں۔اس دنیا کے حکام کا عذاب تو موت تک ختم ہو جاتا ہے لیکن میں اُس سے ڈرتا ہوں جس کا عذاب کبھی ختم نہیں ہوسکتا۔ہاں چونکہ میں سچ پر ہوں اس لئے چاہتا ہوں کہ ان مولویوں سے جو میرے عقیدے کے مخالف ہیں میری بحث کرائی جائے اگر میں دلائل کے رو سے جھوٹا نکلا تو مجھے سزا دی جائے۔راوی اس قصہ کے کہتے ہیں کہ ہم اس گفتگو کے وقت موجود تھے۔امیر نے اس بات کو پسند کیا اور مسجد شاہی میں خان ملا خاں اور آٹھ مفتی بحث کیلئے منتخب کئے گئے اور ایک لاہوری ڈاکٹر جو خود پنجابی