مردانِ خدا

by Other Authors

Page 5 of 97

مردانِ خدا — Page 5

مردان خدا حضرت سید عبد اللطیف صاحب قبل ہی آپ نے اپنے ساتھیوں کو بتادیا تھا کہ مجھے گرفتار کر لیا جائے گا اور اپنے ایک شاگر داحمد نور کابلی صاحب کو فرمایا کہ میری شہادت کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دے دینا۔عصر کا وقت تھا جب حاکم خوست کی طرف سے پچاس سپاہی آپ کی گرفتاری کیلئے آئے۔حاکم خوست آپ کی بہت عزت کرتا تھا اس نے پیغام بھجوایا تھا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں آپ خود آئیں گے یا میں حاضر ہو جاؤں۔آپ نے فرمایا کہ وہ ہمارے سردار ہیں میں خود چلتا ہوں۔گھر سے روانہ ہونے سے قبل آپ نے اپنے گھر والوں کو نصیحت فرمائی کہ میں اب جا رہا ہوں۔دیکھو ایسا نہ ہو کہ میرے بعد تم کوئی اور راستہ اختیار کرو۔جس ایمان اور عقیدہ پر میں ہوں وہی تمہارا مذہب ہونا چاہئے۔جب آپ خوست چھاؤنی پہنچے تو حاکم نے ایک کوٹھی میں آپ کو نظر بند کر دیا مگر اتنی رعایت رکھی کہ آپ کے عزیز آپ سے ملتے رہیں۔کچھ دنوں کے بعد حاکم خوست نے آٹھ گھوڑ سواروں کے ساتھ آپ کو کابل بھجوا دیا۔کابل در بارشاہی میں بادشاہ کو آپ کے خلاف بہت بھڑ کا یا گیا تھا۔جب آپ کو دربار میں پیش کیا گیا تو بادشاہ بڑی سختی سے پیش آیا اور حکم دیا کہ ان کو ارک کے قلعہ میں قید کر دو۔یہ وہ قلعہ تھا جس کے ایک حصہ میں خود بادشاہ رہتا تھا۔بادشاہ کے حکم پر آپ کو اس قلعہ میں قید کر دیا گیا اور غراغراب نامی زنجیر جس کا وزن ایک من چوبیں سیر تھا آپ کو پہنا دی گئی۔اس میں ہتھکڑی بھی شامل تھی۔آپ کے جسم کا کمر تک کا حصہ مکمل طور پر اس نے گھیر لیا۔آپ کے پاؤں میں آٹھ سیروزنی بیڑی لگا دی گئی۔یہ قید بامشقت ایک عادی مجرم پر وارد نہ کی گئی تھی بلکہ اس وجود پر یہ مسلط کی گئی جو بچپن سے ہی ناز و نعم میں پلا تھا۔اپنے علاقہ کا معروف بزرگ اور عالم متبحر اور بہت بڑی جائیداد کا مالک تھا۔آپ نے محض اللہ کے نام پر، اُس کی خاطر ، اُس کے دین کی خاطر یہ قید با مشقت چار ماہ تک بڑے ہی صبر اور حوصلہ کے ساتھ پوری کی۔اپنا سارا وقت ذکر الہی اور