مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 38
٣٨ پانے میں مؤثر وجود کے ہیں۔اور یہی خاتم النبیین کے حقیقی معنی ہیں۔جو اے مولوی خالد محمود صاحب آپ کو بھی مسلّم ہیں۔اور آپ ان معنوں کو خاتمیت مرتبی کہہ کر اسلامی عقیدہ قرار دے رہے ہیں۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں:۔اسلامی عقیدہ ختم نبوت ہر دوصورتوں کا مطالبہ کرتا تھا کہ ختم نبوت زمانی پر بھی ایمان ہواور ختم نبوت مرتبی کو بھی اپنی جگہ تسلیم کیا جائے۔“ ( عقيدة الامة صفحه ۵۸) یہ ظاہر ہے کہ خاتمیت مرتبی کا مقام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی جسمانی ولادت سے پہلے بھی حاصل تھا جس کی تاثیر سے بقول مولانامحمد قاسم صاحب تمام انبیائے سابقین کا ظہور ہوا۔اور خاتمیت زمانی خاتمیت مرتبی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جسمانی ظہور پر لازم اور لاحق ہوئی۔وہ بھی اس مفہوم میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری اور اتم و اکمل شریعت لانے کی وجہ سے آخری شارع نبی ہیں اور آپ کے بعد امتی نبی کے ظہور میں آپ کی خاتمیت زمانی روک نہیں۔کیونکہ خاتمیت مرتبی کے اثر سے آپ کے بعد آئندہ امتی نبی پیدا ہوسکتا ہے۔اور اگر آپ کی خاتمیت زمانی کا یہ مفہوم لیا جائے کہ اس کے اثر سے آئندہ نبی پیدا نہیں ہوسکتا تو خاتمیت زمانی کا خاتمیت مرتبی سے تضاد پیدا ہو جائے گا۔اور مولوی محمد قاسم صاحب علیہ الرحمۃ جیسا جید عالم دو متضاد اور متناقض معنے خاتم النبیین کے قرار دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود مبارک میں اجتماع التقیضین پایا جانے کا قائل نہیں ہو سکتا۔کیونکہ اجتماع نقیضین محال ہے۔اور مولانا محمد قاسم صاحب نے خاتمیت مرتبی سے خاتمیت زمانی کا لزوم قرار دیا ہے۔اور دو متناقض اور متضاد معنوں میں لزوم پایانہیں جاسکتا۔حالانکہ حضرت مولانا محمد قاسم صاحب علیہ الرحمۃ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں خاتمیت