مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 37
مقام خاتم انا تخصیص کا قائل ہونا پڑے گا۔علاوہ ازیں خاتم النبیین کے معنی مطلق آخری نبی بھی دراصل حقیقی معنی نہیں ہو سکتے بلکہ یہ مجازی معنی ہوں گے اور مجازی معنی حقیقی معنوں کے مقابل تاویلی معنی ہی ہوتے ہیں۔خاتم النبیین کے حقیقی معنی تو نبوت میں مؤثر وجود کے ہیں۔خاتم النبیین کے یہی حقیقی معنی حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی علیہ الرحمہ نے تحریر فرمائے ہیں۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں:۔جیسے خاتم بفتح تاء کا اثر مختوم علیہ میں ہوتا ہے۔ایسے موصوف بالذات ( یعنی خاتم النبیین ) کا اثر موصوف بالعرض ( دوسرے انبیاء۔ناقل ) میں ہوگا۔حاصل مطلب آیت کریمہ (ولكن رسول الله و خاتم النبيين۔ناقل ) اس صورت میں یہ ہوگا کہ ابقت معروفہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی مرد کی نسبت حاصل نہیں پر ابقت معنوی امتیوں کی نسبت بھی حاصل ہے اور انبیاء کی نسبت بھی حاصل ہے۔انبیاء کی نسبت تو فقط آیت خاتم النبیین شاہد ہے کیونکہ اوصاف معروض اور موصوف بالعرض موصوف بالذات کی فرع ہوتے ہیں۔اور موصوف بالذات اوصاف عرضیہ کا اصل ہوتا ہے۔اور وہ اس کی نسل اور امتیوں کی نسبت لفظ رسول الله میں غور کیجئے۔“ ( تحذیر الناس صفحہ ۱۰) پس مولانا موصوف کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی نبیوں کے لئے نبوت