مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 20 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 20

(r۔) مقام خاتم النی فَهُوَ عَلَيْهِ السَّلَامُ وَإِنْ كَانَ خَلِيفَةً فِي الْأُمَّةِ الْمُحَمَّدِيَّةِ فَهُوَ رَسُوْلٌ وَنَبِيٌّ كَرِيْمٌ عَلَىٰ حَالِهِ حج الكرامه صفحه ۴۲۶) یعنی حضرت عیسی علیہ السّلام اگر چہ امت محمدیہ میں خلیفہ ہیں مگر وہ اپنے پہلے حال کے مطابق نبی اور رسول بھی ہیں۔لیکن صحیح بات یہ ہے کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام اصالتا آئیں تو وہ علی حالہ نبی نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ تو مستقل نبی تھے اور مستقل نبی کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنا آیت خاتم النبیین کے منافی ہے۔لہذا جب یہ لوگ مانتے ہیں کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ اور امتی ہوں گے تو اُن کی پہلی نبوت مستقلہ میں انقلاب آجانے کی وجہ سے وہ علیٰ حالہ نبی تو نہ ہوئے۔کیونکہ جب استقلال جاتا رہا جو اُن کی نبوت کو لازم تھا تو اس سے اُن کی نبوت میں تغییر لازم آیا۔اور تغیر حدوث کو چاہتا ہے۔لہذا نئی قسم کی نبوت کا امکان لازم آیا۔جس کا حامل ایک پہلو سے امتی ہو اور ایک پہلو سے نبی۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ علمائے امت محمدیہ جو حضرت عیسی علیہ السلام کی اصالتا آمد کے قائل ہیں۔نادانستہ دراصل وہ مسیح موعود کیلئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایک نئی قسم کی نبوت ( یعنی امتی نبوت) کے حدوث ہی کے قائل ہیں۔لیکن بعض کا یہ کہنا کہ حضرت عیسی علیہ السلام علی حالہ نبی ہوں گے اور اُن کی نبوت مسلوب نہ ہوگی اسی صورت میں درست ہو سکتا ہے کہ وہ مستقل نبی کی حیثیت ہی میں آئیں اور یہ امرتو آیت خاتم النبيين اور حدیث لَا نَبِيَّ بَعْدِی وغیرہ کے صریح منافی ہونے کی وجہ سے محال ہے۔پس جب علماء بھی دراصل حضرت عیسی علیہ السلام کو اُن کی آمد ثانی میں مستقل نبی قرار نہیں دیتے تو صاف ظاہر ہے کہ اُن کے امتی نبی کی حیثیت میں آنے کے ہی قائل ہیں۔