مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 17
(12) مقام خاتم ا اور لا نبی بعدی وغیرہ انقطاع نبوت پر دلالت کرنے والی احادیث کے منافی نہیں سمجھا۔بلکہ ایسی احادیث کی انہوں نے یہی توجیہ کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد شریعت جدیدہ لانے والا کوئی نبی نہیں آسکتا۔چنانچہ امام علی القاری علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:۔أَمَّا الْحَدِيْتُ لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِيْ با طِلْ وَلَا أَصْلَ لَهُ نَعَمْ وَرَدَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَمَعْنَاهُ عِنْدَ الْعُلَمَاءِ لَا يَحْدُتُ بَعْدَهُ نَبِيٌّ بِشَرْعِ يَنْسَخُ شَرْعَهُ۔(الاشاعة في اشراط الساعة صفحه ۲۴۶) یعنی حديث لا وحي بعد موتی باطل اور بے اصل ہے۔ہاں حدیث میں لا نبی بعدی کے الفاظ وارد ہیں۔اس کے معنی علماء کے نزدیک یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی پیدا نہیں ہوگا جو ایسی شریعت لے کر آئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرتی ہو۔اسی طرح اقتراب الساعۃ میں لکھا ہے:۔حديث لَا وَحْيَ بَعْدَ مَوْتِى بے اصل ہے۔البتہ لَا نَبِيَّ بَعْدِی آیا ہے جس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ کوئی نبی شرع ناسخ نہیں لائے گا۔“ ( اقتراب الساعۃ صفحه ۱۶۲) پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسے نبی کا ظہور آیت خاتم النبيين