مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 12
(ir) مقام خاتم انا جاتا تو پہچان نہ لیا جائے اور پھر دُکھ نہ دیا جائے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن مریم کی پیشگوئی میں فرما دیا تھا کہ یہ ابنِ مریم تم میں سے تمہارا امام ہوگا تا کہ لوگ اس شبہ میں نہ پڑیں کہ اسرائیلی مسیح کا آنا مراد ہے۔لیکن افسوس کہ جس محبہ سے بچانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ اور فَامَّكُمْ مِنْكُمْ کے الفاظ استعمال فرمائے تھے اُمت ان الفاظ کی موجودگی میں عیسائیوں کے پراپیگنڈا سے متاثر ہو کر اُسی شبہ میں گرفتار ہوگئی۔(وكان ذلك قدرًا مقدورًا) نزول کے لفظ سے بھی علماء کو غلطی میں نہیں پڑنا چاہیئے تھا کیونکہ نزول کا لفظ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے لئے بھی بطور ا کرام و اعزاز قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:۔ترجمه قَدْ أَنْزَلَ اللهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًارَّسُوْلاً يَتْلُوْا عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّهِ مُبَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَ الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّوْرِ۔( طلاق ع ۲ آیت ۱۲-۱۱) بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف ذکر یعنی رسول کو نازل کیا ہے جو تم پر اللہ کی آیات پڑھتا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر ٹور کی طرف لے آئے۔پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نزول کا لفظ بطور اعزاز واکرام استعمال ہوا ہے حالانکہ آپ اپنی والدہ محترمہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ویسے ہی مسیح موعود کے لئے حدیثوں میں نزول کا لفظ اکراماً استعمال ہوا ہے۔