مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 7 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 7

مقام خاتم انا ترجمه يَكْرَهُ فَرَفَعَهُ إِلَيْهِ وَبَقِيَتِ النَّقْمَةُ۔“ 66 خدا نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اعزاز کیا ہے کہ آپ کو رویا میں تو اپنی امت میں وقوع میں آنے والی وہ بات دکھا دی جسے آپ نا پسند کرتے تھے۔پس اُس نے آپ کو اپنی طرف اُٹھا لیا۔( یعنی با عزت وفات دے دی) اور فتنہ وفساد( پیچھے ) باقی رہ گیا۔حضرت انس نے اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے رَفَعَهُ إِلَيْهِ خدا نے آپ کو اپنی طرف اُٹھالیا ) کے الفاظ یہ ظاہر کرنے کے لئے استعمال کئے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو باعزت طریق سے وفات دی۔کیونکہ امت کا فتنہ وفساد آپ کی زندگی میں وقوع میں نہیں آیا۔انہی معنوں میں خدا تعالیٰ نے آیت کریمہ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ میں مُتَوَفِّيْكَ ( تجھے وفات دینے والا ہوں ) کے بعد رافِعُكَ کا لفظ اس لئے استعمال کیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو تسلی دی جائے کہ انہیں طبعی وفات دی جائے گی۔اور باعزت طریق سے دی جائے گی۔یہودی انہیں صلیب پر نہیں مارسکیں گے۔اس سے پہلی آیت میں خدا تعالیٰ نے فرمایا:۔مَكَرُوْا وَمَكَرَ اللَّهُ وَ اللَّهُ خَيْرُ الْمَا كِرِيْنَ یعنی یہودیوں نے مسیح کو صلیب پر مارنے کی تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں بچانے کی تدبیر کی۔اور خدا تد بیر کرنے والوں میں سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔