مُقَام خَاتَم النّبیّیِن

by Other Authors

Page 223 of 280

مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 223

۲۲۳ مقام خاتم است بَاطِنِيَّةِ شَرْعِ مُحَمَّدٍصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ۔الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحہ ۹۰ بحث ۴۵) ترجمہ: پہلے بھی مرسلین دنیا میں رہے ہیں اور آئندہ بھی اس دُنیا میں مرسلین ہوں گے لیکن یہ مرسلین اس مرتبہ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کے فیض باطنی سے پائیں گے۔لیکن اکثر لوگ ( جیسا کہ مولوی خالد محمود بھی۔ناقل ) اس حقیقت سے نا واقف ہیں۔امام علی القاری علیہ الرحمۃ کا عقیدہ فقہ حنفیہ کے جلیل القدر امام اور محدث کا ختم نبوت کے متعلق عقیدہ ہم پہلے یہ بیان کر چکے ہیں کہ اُن کے نزدیک حدیث نبوی لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيْمُ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا کی تشریح کی رُو سے صاحبزادہ ابراہیم کے بالفعل نبی ہونے میں آیت خاتم النبیین روک نہیں ہوئی۔بلکہ اُن کی وفات روک ہوئی ہے۔اگر وہ زندہ رہتے اور بموجب حدیث نبوی بالفعل نبی بن جاتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کے تابع امتی نبی کی حیثیت ہی رکھتے۔کیونکہ آیت خاتم النبیین کا مفہوم اُن کے نزدیک یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ایسا نبی نہیں ہو سکتا جو آپ کی شریعت کو منسوخ کرے۔اور آپ کی اُمت میں سے نہ ہو۔گویا انقطاع نبوت اُن کے نزدیک دو شرطوں سے مشروط ہے:۔پہلی شرط یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی ناسخ شریعتِ