مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 218
(MIA) مقام خاتم النت مولوی خالد محمود صاحب نے عقیدۃ الامت میں امام عبد الوہاب شعرانی کی ذیل کی عبارت درج کی ہے:۔إِعْلَمْ أَنَّ الْوَحْيَ لَا يَنْزِلُ بِهِ الْمَلَكُ عَلَى غَيْرِ قَلْبِ نَبِيِّ أَصْلًا وَلَا يَأْمُرُ غَيْرُ نَبِيِّ بِأَمْرٍ الْهِيَّةٍ جُمْلَةً وَاحِدَةً فَإِنَّ الشَّرِيْعَةَ قَدِ اسْتَقَرَّتْ وَ بَيْنَ الْفَرْضَ وَالْوَاجِبَ وَالْمَنْدُوْبَ وَالْحَرَامَ وَالْمَكْرُوْه وَالْمُبَاحَ فَانْقَطَعَ الْأَمْرُ الْهِيُّ بِانْقِطَاعِ النُّبُوَّةِ وَالرِّسَالَةِ وَمَا بَقِيَ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ يَأْمُرُهُ اللَّهُ بِأَمْرِ يَكُوْنُ شَرْعًا يُتَعَبَّدُ بِهِ أَبَدًا۔( عقيدة الامة صفحه ۸۶) یعنی جان لو کہ فرشتہ وحی لیکر اس کے دل پر نہیں اُتر تا جو نبی نہیں اور نہ ہی غیر نبی کو کسی امرالہی کا حکم دیتا ہے۔کیونکہ شریعت قائم ہو چکی اور فرض واجب مندوب حرام مکر وہ اور مباح سب واضح ہو چکے۔پس نبوت اور رسالت ( تشریعی۔ناقل ) کے منقطع ہونے کے ساتھ ہی امر الہی بھی منقطع ہو گیا ہے۔اور مخلوق میں سے رُوئے زمین پر کوئی باقی نہ رہا جسے اللہ تعالیٰ کبھی کوئی ایسا نیا حکم دے جسے تشریعی صورت میں ماننا ضروری ہو۔امام موصوف کی یہ عبارت ہمارے مسلک کے خلاف نہیں کیونکہ اس میں نبوت اور رسالت کے ذکر میں جدید شرعی حکم کے منقطع ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔امام موصوف کی یہ عبارت ان کے ان اقوال کی روشنی میں پڑھی جانی چاہئیے جو ہم