مُقَام خَاتَم النّبیّیِن — Page 190
(19) مقام خاتم النی نتين نزول کی وجہ سے۔کیونکہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک آیت خاتم النبیین حضور کے بعد امتی نبی کے پیدا ہونے میں بھی روک ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کبھی یہ نہ فرماتے اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور صدیق نبی ہوتا۔بلکہ یہ فرماتے اگر ابراہیم زندہ بھی رہتا تب بھی نبی نہ ہوتا۔کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں۔“ امام علی القاری نے اس حدیث کے مخالف علماء کے خیال کورڈ کرنے اور اس حدیث کو قومی قرار دینے کے بعد لکھا ہے:۔لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيْمُ وَصَارَ نَبِيًّا وَكَذَا لَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَا مِنْ اتْبَاعِهِ عَلَيْهَ السَّلَامُ كَعِيْسَى وَخِضَرِ وَ إِلْيَاسِ۔66 موضوعات کبیر صفحه ۵۸) یعنی اگر ابراہیم زندہ رہتا اور نبی ہو جاتا اور اسی طرح اگر حضرت عمرؓ نبی ہو جاتے تو یہ دونوں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبعین میں سے ہوتے جیسے عیسی ، خضر اور الیاس کو متبع نبی تسلیم کیا جاتا ہے۔پھر یہ بتانے کے لئے کہ ان دونوں کا نبی ہو جانا آیت خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا، تحریر فرماتے ہیں:۔" فَلَا يُنَاقِصُ قَوْلُهُ تَعَالَى خَاتَمَ النَّبِيِّينَ إِذِ الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي بَعْدَهُ نَبِيٌّ يَنْسَحُ مِلْتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ ( موضوعات کبیر صفحه ۵۹) ترجمہ: ان دونوں کا نبی ہو جانا آیت خاتم النبیین کے خلاف نہ ہوتا کیونکہ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کے بعد کوئی ایسا نبی نہ ہوگا جو آپ کی